نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمذکورہ عقد کو شریعت کی اصطلاح میں "مغارسہ" کہا جاتا ہے،مغارسہ کا مطلب یہ ہے کہ مالکِ زمین کسی کو اپنی خالی زمین پودے لگانے کےلئے اس شرط پر حوالہ کرے کہ پھل ہمارے درمیان مشترک ہوگا۔مغارسہ کے صحیح ہونے کےلئے احناف کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ یا تو پودے اور پھل مالکِ زمین اور عامل دونوں کے درمیان مشترک ہوں۔اور اگر صرف پھل میں اشتراک چاہتے ہیں تو یہ بھی ٹھیک ہے،لیکن اس صورت میں پودے عامل(فریق دوم) کے ہوں گے۔
بصورتِ مسئولہ معاہدے میں یہ شرط لگانا کہ نو سال تک فریق اول کسی انکم کا مطالبہ نہیں کرےگا،درست نہیں،بلکہ جب سے پیداوار حاصل ہونا شروع ہوجائے،تو اس کو معاہدے کے مطابق مطالبے کا حق حاصل ہے،تاہم اگر فریق اول اس شرط پر راضی ہے کہ وہ نو سال تو کچھ نہیں لے گا،تو پھر اس کو معاہدے کا حصہ تو نہیں بنایا جاسکتا ،تاہم پیداوار حاصل ہونے کے بعد وہ اپنا حصہ فریق دوئم کو ہبہ کرسکتا ہے۔
باقی مغارسہ چونکہ "مساقاۃ" کے ضمن میں آنے والا عقد ہے ،اس لئے اخراجات کے حوالے سے سوال میں جو تفصیل مذکور ہے،اگر اس پر دونوں متفق ہیں،تو شرعا اس میں کوئی خرابی نہیں۔
في الفتاوى الهندية :وإذا دفع الرجل إلى آخر أرضا بيضاء ليغرس فيها أغراسا على أن الأغراس والثمار بينهما فهو جائز وإن شرطا أن تكون الأغراس لأحدهما والثمار لأحدهما لا يجوز لأن هذا الشرط قاطع للشركة فإنه عسى لا يثمر النخيل في تلك المدة فصاحب الغرس لا يصيبه شيء وإن شرطا أن يكون الثمر بينهما نصفين والأغراس خاصة لأحدهما بعينه فإن شرط الأغراس (للغارس)فذلك جائز وإن شرط الأغراس لمن لم تكن الأغراس من جهته فذلك فاسد(الباب الثاني في المتفرقات:5/289:دارالفكر)
في الموسوعة الفقهية الكويتية:ثانيا : عقد المغارسة :المغارسة عقد على غرس شجر في... أما المغارسة على سبيل الشركة ، بأن تعطى الأرض للعامل لغرس الأشجار ، وتكون الأرض والأشجار بينهما ، أو الأشجار وحدها بينهما ، فاختلفوا فيه :فأما المغارسة على سبيل الشركة في الأشجار وحدها فهي كما يلي قال الحنفية : لو دفع إليه أرضا مدة معلومة على أن يغرس فيها غراسا على أن ما تحصل من الأغراس والثمار بينهما جاز ومثله ما قاله الحنابلة ، حيث صرحوا بجواز دفع أرض وشجر له ثمر مأكول لمن يغرسه ويعمل عليه بجزء مشاع معلوم من ثمرته أو منه.(فصل:عقد المغارسة: 31/ 173: دارالسلاسل)
في بدائع الصنائع:فصل وأما حكم المعاملة الصحيحة عند مجيزها فأنواع منها أن كل ما كان من عمل المعاملة مما يحتاج إليه الشجر والكرم والرطاب وأصول الباذنجان من السقي وإصلاح النهر والحفظ والتلقيح للنخل فعلى العامل لأنها من توابع المعقود عليه فيتناوله العقد وكل ما كان من باب النفقة على الشجر والكرم والأرض من السرقين وتقليب الأرض التي فيها الكرم والشجر والرطاب ونصب العرايش ونحو ذلك فعليهما على قدر حقيهما لأن العقد لم يتناوله لا مقصودا ولا ضرورة وكذلك الجذاذ والقطاف لأن ذلك يكون بعد انتهاء العمل فلا يكون من حكم عقد المعاملة ومنها أن يكون الخارج بينهما على الشرط لما مر.( فصل وأما حكم المعاملة الصحيحة:6/186:دارالكتاب العربي)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔