سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-514 Fatwa no: 1447-514

پھلدار پودے لگانے کےلئے کسی کو زمین دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے آپس میں یہ معاہدہ طے پایا کہ فریق دوم ،فریق اول کی ستر کنال زمین کے اندر لیچی ،آڑو اور میٹھے کے پودے لگائےگا،اور یہ پودے لگانے کے تمام اخراجات جس میں اچھی نسل کے پودوں کی خریداری ،لگائی ،گوڈی،سپرے ،رکھوالی ہے فریق دوم کے ذمہ ہوگا،معاہدہ پندرہ سال کا طے پایا ہے،نو سال تک فریق اول انکم سے متعلق کوئی مطالبہ نہیں کرےگا(بلکہ فریق اول کی طرف سے خود یہی آفر ہے) ۔دسویں سال سے پندرھویں سال تک یعنی چھ سال تک باغات کی انکم اور اخراجات فریق اول اور فریق دوم آپس میں تقسیم کریں گے،اگلے چھ سال اگر فریق اول باغ کی سالانہ انکم سے مطمئمن نہ ہو،تو اوپن مارکیٹ میں جاکر(پیداوار) قیمت لگوا سکتا ہے،فریق دوئم کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا،سولر ٹیوب ویل،اور باڑ کی تار وغیرہ فریق اول کی طرف سے پہلے زمین میں موجود ہیں،یہ بات بھی طے پائی ہے کہ متعلقہ رقبہ میں کوئی تعمیر نہیں کریں گے اور فریق اول سے مشورہ کریں گے۔
جواب :

مذکورہ عقد کو شریعت کی اصطلاح میں "مغارسہ" کہا جاتا ہے،مغارسہ  کا مطلب یہ ہے  کہ مالکِ زمین  کسی کو اپنی  خالی زمین پودے لگانے کےلئے  اس شرط پر حوالہ کرے کہ  پھل ہمارے درمیان مشترک ہوگا۔مغارسہ   کے صحیح ہونے کےلئے احناف کے  نزدیک  یہ ضروری ہے کہ یا تو پودے اور پھل  مالکِ زمین اور عامل دونوں  کے درمیان  مشترک ہوں۔اور اگر صرف پھل میں اشتراک چاہتے ہیں تو یہ بھی ٹھیک ہے،لیکن اس صورت میں پودے عامل(فریق دوم) کے ہوں گے۔
بصورتِ مسئولہ  معاہدے میں یہ شرط لگانا کہ نو سال تک فریق اول کسی  انکم کا مطالبہ نہیں کرےگا،درست نہیں،بلکہ جب سے پیداوار حاصل ہونا شروع ہوجائے،تو اس کو معاہدے کے مطابق    مطالبے کا حق حاصل ہے،تاہم اگر فریق اول اس شرط پر راضی  ہے  کہ وہ نو سال تو کچھ نہیں لے گا،تو پھر اس کو معاہدے کا حصہ تو نہیں بنایا جاسکتا  ،تاہم پیداوار حاصل ہونے کے بعد وہ اپنا حصہ فریق دوئم  کو ہبہ کرسکتا ہے۔
باقی مغارسہ چونکہ "مساقاۃ" کے ضمن میں آنے والا عقد ہے ،اس لئے    اخراجات کے حوالے سے سوال میں جو تفصیل مذکور ہے،اگر اس پر دونوں متفق ہیں،تو شرعا اس میں کوئی خرابی نہیں۔
في الفتاوى الهندية :وإذا دفع الرجل إلى آخر أرضا بيضاء ليغرس فيها أغراسا على أن الأغراس والثمار بينهما فهو جائز وإن شرطا أن تكون الأغراس لأحدهما والثمار لأحدهما لا يجوز لأن هذا الشرط قاطع للشركة فإنه عسى لا يثمر النخيل في تلك المدة فصاحب الغرس لا يصيبه شيء وإن شرطا أن يكون الثمر بينهما نصفين والأغراس خاصة لأحدهما بعينه فإن شرط الأغراس (للغارس)فذلك جائز وإن شرط الأغراس لمن لم تكن الأغراس من جهته فذلك فاسد(الباب الثاني في المتفرقات:5/289:دارالفكر)
في الموسوعة الفقهية الكويتية:ثانيا : عقد المغارسة :المغارسة عقد على غرس شجر في... أما المغارسة على سبيل الشركة ، بأن تعطى الأرض للعامل لغرس الأشجار ، وتكون الأرض والأشجار بينهما ، أو الأشجار وحدها بينهما ، فاختلفوا فيه :فأما المغارسة على سبيل الشركة في الأشجار وحدها فهي كما يلي قال الحنفية : لو دفع إليه أرضا مدة معلومة على أن يغرس فيها غراسا على أن ما تحصل من الأغراس والثمار بينهما جاز ومثله ما قاله الحنابلة ، حيث صرحوا بجواز دفع أرض وشجر له ثمر مأكول لمن يغرسه ويعمل عليه بجزء مشاع معلوم من ثمرته أو منه.(فصل:عقد المغارسة: 31/ 173: دارالسلاسل)
في بدائع الصنائع:فصل وأما حكم المعاملة الصحيحة عند مجيزها فأنواع  منها أن كل ما كان من عمل المعاملة مما يحتاج إليه الشجر والكرم والرطاب وأصول الباذنجان من السقي وإصلاح النهر والحفظ والتلقيح للنخل فعلى العامل لأنها من توابع المعقود عليه فيتناوله العقد وكل ما كان من باب النفقة على الشجر والكرم والأرض من السرقين وتقليب الأرض التي فيها الكرم والشجر والرطاب ونصب العرايش ونحو ذلك فعليهما على قدر حقيهما لأن العقد لم يتناوله لا مقصودا ولا ضرورة وكذلك الجذاذ والقطاف لأن ذلك يكون بعد انتهاء العمل فلا يكون من حكم عقد المعاملة ومنها أن يكون الخارج بينهما على الشرط لما مر.( فصل وأما حكم المعاملة الصحيحة:6/186:دارالكتاب العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب