سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-515 Fatwa no: 1447-515

دادا کی میراث پڑپوتوں میں تقسیم کا طریقہ کار

براہ راست فتویٰ
سوال :
ایک آدمی محمد امین فوت ہوا ،اور ورثاء میں تین بیٹے چھوڑے سردار علی ،سلت خان،سکندر خان ،ورثہ میں تین سو کنال زمین چھوڑی۔ 2-پھر سردار علی فوت ہوا،ا وروثاء میں ایک بیٹی نورنجہ اور دو بھائی سلت خان اور سکندر خان چھوڑے۔ 3-پھر سلت خان فوت ہوا تین بیٹے گل شیر،فقیر،تاج خان اور ایک بھائی سکندر خان چھوڑے ۔ 4-سکندر فوت ہوا اور ورثاء میں ایک بیٹی زمردہ اور تین بھتیجے فقیر ،گل شیر اور تاج خان چھوڑے۔ شرعی طریقہ کار کیمطابق میراث کیسے تقسیم ہوگی میراث میں اوپر سے یہی تین سوکنال زمین تقسیم ہونی ہے۔نورنجہ نے اپنی زمین میں سے تیس کنال زمین گل شیر کو فروخت کی ہے اور اب صرف تین بیٹے زندہ ہیں۔نورنجہ پہلے فوت ہوچکی ہے۔
جواب :

بصورت مسئولہ میت کی میراث سے متعلق حقوق ( کفن دفن کے اخراجات ، قرض کی ادائیگی، جائز وصیت کی  تکمیل  وغیرہ ) اگر ادا کئے گئے ہوں،تو محمد آمین کی تین سو(300) کنال زمین  سب سے پہلے ان کے تین بیٹوں(سردار علی،سلت خان اور سکندر خان ) میں برابری کے ساتھ تقسیم ہوگی،یعنی سو سو(100) کنال۔ 
اس کے بعد ایک بیٹا،سردار علی وفات پاگیا ہے،جس نے ورثاء میں ایک بیٹی  نورنجہ اور دو بھائی سلت خان اور سنکدر خان چھوڑے ہیں،تو سردار علی  کی سو کنال زمین میں سے آدھا یعنی پچاس(50) کنال  اس کی بیٹی نورنجہ  کو ملیں  گے،اور باقی  پچاس(50) کنال دو بھائیوں میں برابری کے ساتھ تقسیم  ہوں گے۔لہذا  ہر ایک بھائی کے پاس   ایک سو پچیس(125) کنال ہوجائیں گے۔
اس کے بعد سلت خان فوت ہوا ہے ،جس  نے ورثاء میں تین بیٹے(فقیر،گل شیر اور تاج)  اور ایک بھائی(سکندرخان) چھوڑا ہے،چونکہ بیٹوں کی موجودگی میں بھائی میراث سے محروم ہوتا ہے،اس لئے سلت خان کی ساری زمین(125)کنال  تین بیٹوں میں برابری کے ساتھ تقسیم ہوگی،چنانچہ ہر ایک بیٹے کو   تقریبا ایک تہائی کم  بیالیس(41.6666) کنال زمین ملی گی۔
اس کے بعد آخری بھائی سنکدر خان فوت ہوا ہے،جس کی ملکیت  میں  ایک سو پچیس (125) کنال زمین موجود تھی،چونکہ اس نے ورثاء میں ایک بیٹی (زمردہ) اور تین بھتیجے(جو سلت خان کے بیٹے ہیں) چھوڑے ہیں،اس لئے بیٹی کو نصف حصہ یعنی  ساڑھے  باسٹھ(62.50) کنال  زمین ملی گی،جبکہ باقی   ساڑھے باسٹھ(62.50) تین بھتیجوں میں برابری کے ساتھ تقسیم ہوگی،یعنی ہرایک   تقریبا پونےاکیس(20.83333) کنال زمین  ملی گی۔ یوں سلت خان کے ہرایک بیٹے کا حصہ تقریبا ساڑھے باسٹھ(62.49 کنال ہوجائےگا،البتہ چونکہ ان میں سے گل شیر نے  تیس(30) کنال زمین نورنجہ سے خریدی ہے،اس لئے  اس کا حصہ تقریبا  ساڑھے بانوے(92.50) کنال ہوجائے گا۔
باقی نورنجہ نے چونکہ اپنی زندگی میں تیس کنال زمین  فروخت  کی تھی،اس لئےباقی ماندہ بیس(20) کنال  اس کے ورثاء( جو کے تین بیٹے   ہیں) میں برابری کے ساتھ تقسیم ہونگی یعنی ہرایک کو تقریبا ا یک تہائی کم ،سات(6.666) کنال ملیں گے۔
قال الله تعالی:
 {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]
السراجي في الميراث:
قال علماءنا:تتعلق بتركة الميت حقوق اربعةمرتبة:الاول يبدأبتكفينه وتجهيزه من غيرتبذيرولاتقتير،ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله ،ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي.
(الحقوق المتعلقة بتركة الميت:ص:5:ط:بشرى)
وفيه ايضا:
ثم العصبات من جهة  النسب،والعصبة:كل من يأخذ ما أبقته اصحاب الفرائض...ثم جزء ابيه اي الاخوة.
(ترتيب تقسيم التركة:ص:9:ط:بشرى)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب