سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-516 Fatwa no: 1447-516

دوکان یا نئی تعمیر کے افتتاح کے وقت فیتہ کاٹنے اور غبارے لٹکانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: 1- آدمی کوئی نیا کام یا نئی تعمیر شروع کرنا چاہتا ہو،تو ا س سے پہلے کیا کرنا چاہئے ،اس میں شرعی رہنمائی کیا ہے؟ 2-آج کل لوگ جب دوکان ،گھر یا کسی نئی تعمیر کا افتتاح کرتے ہیں،تو افتتاح سے پہلے کچھ غبارے لٹکاتے ہیں،اور ایک فیتہ باندھ لیتے ہیں،پھر کسی معزز مہمان کو بلا کر،مہمان فیتہ کاٹتا ہے اور اس کے بعد دعا ئے خیر ہوتی ہے،اس کے بعد ضیافت کا اہتمام ہوتا ہے،اس کے بارے میں شرعی راہنمائی فرمائیں۔کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ ۔جزاکم اللہ خیرا
جواب :

بصورتِ مسئولہ  :
1-کوئی بھی جائز کام  شروع کرنے سے پہلے  جس چیز کا ثبوت ہمیں سنت سے ملتا ہے وہ "استخارہ اور استشارہ " ہے،استخارے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی  دو رکعت نفل پڑھ کر اللہ تعالی سے دعائیں مانگے،کہ یہ اللہ! میں نے یہ فلاں کام کرنا ہے،اگر اس میں میرے لئے خیر ہو،تو میرا دل اس پر  مطمئن فرما اور اگر خیر نہ ہو،تو میر ادل اس سے پھیر دیں،یہ عمل اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک کسی ایک طرف دل مائل نہ ہو۔جبکہ استشارے کا مطلب ہے  کہ تجربہ کار لوگوں سے اس کام کے بارے میں مشورہ کیا جائے،اور مشورے میں جو  اچھا پہلو سامنے آئے ،اس پر عمل کیا جائے۔
2-دوکان،آفس یا نئے گھر  کے افتتاح  کے وقت جن باتوں کا سوال  میں تذکرہ کیا گیا ہے،خصوصا ،فیتہ کاٹنے  اور غبارے لٹکانے کا،  شریعت میں کوئی ثبوت نہیں  ہے، اس لئے ایسے لایعنی کاموں سے بچنا چاہئے،ایک تو اس میں بلا وجہ اسراف ہے،اور دوسرا یہ کہ اس میں غیروں کے ساتھ مشابہت بھی ہے۔اس لئے ان دو کاموں سے احترام کیا جائے۔باقی جہاں تک  افتتاح کے وقت کسی عالم یا دیندار آدمی سے دعاء کرانا ہے،اور یا شکریہ کے طور پر بغیر کسی دباؤ کے دوست واحباب کا اکرام کرنا ہے،تو اس کی گنجائش ہے۔اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
قال الله تعالى:{وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا (26) إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا } [الإسراء: 26، 27]
في سنن أبى داود :عن جابر بن عبد الله قال كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يعلمنا الاستخارة كما يعلمنا السورة من القرآن يقول لنا « إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة وليقل اللهم إنى أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر - يسميه بعينه الذى يريد - خير لى فى دينى ومعاشى ومعادى وعاقبة أمرى فاقدره لى ويسره لى وبارك لى فيه اللهم وإن كنت تعلمه شرا لى مثل الأول فاصرفنى عنه واصرفه عنى واقدر لى الخير حيث كان ثم رضنى به ». أو قال « فى عاجل أمرى وآجله »(باب ما جاء في صلاة الاستخارة: 1/ 564:دارالكتاب العربي)
في المعجم الأوسط : عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما خاب من استخار ولا ندم من استشار ولا عال من اقتصد(6/ 365:دارالحرمين)
في سنن أبى داود :عن ابن عمر قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « من تشبه بقوم فهو منهم ».(»(باب في لبس الشهرة: 4/ 78:دارالكتاب العربي)
في البحر الرائق :فإن الوليمة طعام العرس والوكيرة طعام البناء والخرس طعام الولادة وما تطعم النفساء نفسها خرسة وطعام الختام ( ( ( الختان ) ) ) إعذار وطعام القادم من سفره نقيعة وكل طعام صنع لدعوة مأدبة ومادية جميعا ويقال فلان يدعو النقرى إذا خص وفلان يدعو الجفلى وإلا جفلا إذا عم كذا في غاية البيان معزيا إلى القتبي(كتاب الإجارة: 7/ 302:دارالمعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب