نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ پہلی بات یعنی روزہ دار کے سامنے کھانا کھانے پر روزہ دار کو اجر ملتا ہے اور اس کےلئے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں،یہ بات درست ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ روزہ دار کےسامنے کھانا موجود ہوتا ہے لیکن پھر بھی رب کے حکم اور رضا کےلئے صبر کرتا ہے۔اس وجہ سے وہ اجر اور ثواب کا مستحق بنتا ہے،باقی جہاں تک تعلق ہے دوسری بات کا یعنی روزہ دار کے سامنے کچھ نہ کھانے کا،تو اس حوالہ سے کوئی حدیث یا فقہی عبارت ہماری نظرسے نہیں گزری،لیکن اگر اس طرح کی عبارت ہوئی بھی ،تو یہ اس صورت پر محمول ہوگی کہ جب روزہ دار کے سامنے کھانے سے اس کو تکلیف ہوتی ہو۔تو اس صورت میں اس کے سامنے کھانے سے بچنا چاہئے۔
مشكاة المصابيح
وعن أم عمارة بنت كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها فدعت له بطعام فقال لها : " كلي " . فقالت : إني صائمة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " إن الصائم إذا أكل عنده صلت عليه الملائكة حتى يفرغوا " . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي
(باب في الإفطار من التطوع: 1/ 471:المكتبة الاسلامي)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
وعن أم عمارة بضم العين وتخفيف الميم واسمها نسيبة بنت كعب أي الأنصاري أن النبي دخل عليها فدعت أي طلبت له بطعام فقال لها كلي فقالت إني صائمة فقال النبي أي تفريحا بإتمام صومها إن الصائم إذا أكل عند أي ومالت نفسه إلى المأكول واشتد صومه عليه صلت عليه الملائكة أي استغفرت له عوضا عن مشقة الأكل حتى يفرغوا أي القوم الآكلون
(باب في توابع لصوم التطوع : 6/ 415)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔