سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-517 Fatwa no: 1447-517

روزہ دار کے سامنے کھانا کھانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک حدیث میں ہےکہ "ام عمارہ فرماتی ہے کہ ایک مرتبہ حضوراکرامﷺ ان کے مکان میں تشریف لائے،تو انہوں نے کھانا پیش کیا ،ارشاد ہوا"تم بھی کھاؤ؟بولیں: میں روزہ سے ہوں۔حضورﷺ نے کھانا نوش فرمایا اور فرمایا کہ روزہ دار کے پاس اگر کچھ کھایا جائے،تو اس پر فرشتے درود بھیجتے ہیں" جبکہ ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ روزہ دار کے سامنے کھانا نہیں کھانا چا ہئے۔اب ان دونوں باتوں میں کیا تطبیق ہے؟
جواب :

بصورتِ مسئولہ پہلی بات یعنی روزہ دار کے سامنے کھانا کھانے پر روزہ دار کو اجر ملتا ہے  اور اس کےلئے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں،یہ بات درست ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے  کہ روزہ دار کےسامنے  کھانا موجود ہوتا ہے لیکن پھر بھی رب کے حکم اور رضا کےلئے صبر کرتا ہے۔اس وجہ سے وہ اجر اور ثواب کا مستحق بنتا ہے،باقی جہاں تک تعلق ہے دوسری بات کا  یعنی روزہ دار کے سامنے کچھ نہ کھانے  کا،تو اس حوالہ سے کوئی حدیث یا فقہی عبارت ہماری نظرسے نہیں گزری،لیکن اگر اس طرح کی عبارت ہوئی  بھی ،تو  یہ اس صورت پر محمول ہوگی کہ جب روزہ دار کے سامنے کھانے سے اس کو تکلیف ہوتی ہو۔تو اس صورت میں اس کے سامنے کھانے  سے بچنا چاہئے۔
مشكاة المصابيح
وعن أم عمارة بنت كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها فدعت له بطعام فقال لها : " كلي " . فقالت : إني صائمة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " إن الصائم إذا أكل عنده صلت عليه الملائكة حتى يفرغوا " . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي
(باب في الإفطار من التطوع: 1/ 471:المكتبة الاسلامي)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
وعن أم عمارة بضم العين وتخفيف الميم واسمها نسيبة بنت كعب أي الأنصاري أن النبي دخل عليها فدعت أي طلبت له بطعام فقال لها كلي فقالت إني صائمة فقال النبي أي تفريحا بإتمام صومها إن الصائم إذا أكل عند أي ومالت نفسه إلى المأكول واشتد صومه عليه صلت عليه الملائكة أي استغفرت له عوضا عن مشقة الأكل حتى يفرغوا أي القوم الآكلون
(باب في توابع لصوم التطوع : 6/ 415)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب