سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-519 Fatwa no: 1447-519

زہنی توازان کھونے والے آدمی کے وضو اور نماز کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہے مفتان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہہ ایک بندہ جس کی عمر تقریبا 75 اور 80 کے درمیان ہے، اس کو مرگی کی بیماری ہے، پہچان بالکل ختم ہوچکی ہے ،حتی کہہ اپنے بیٹوں میں بھی فرق نہیں کر سکتا کہ یہ میرا کونسا بیٹا ہے، اور وضو کو نہیں جانتا کہ یہ کیوں ہوتا ہے ، کس طرح ہوتا ہے، اور کس ترتیب سے ہوتا ہے، نماز کا بھی ان کو نہیں پتہ چلتا کہ اس میں کیا ترتیب ہے اوراس میں کتنی رکعتیں ہیں یا فرض اور سنت کیا ہے؟تو اس کی نماز کیا کیا حکم ہے؟؟ معاف ہے؟؟ یا کیا کرے گا؟ تسلی بخش جواب دیا جائے ۔
جواب :

بصورت مسئولہ اگر شخصِ مذکور کی ذہنی حالت واقعتا  ایسا ہی ہے جیسا کہ  سوال میں  مذکور ہے یعنی وضو اور نماز کی پہچان ختم ہوچکی ہو تو اس سے شرعی احکام ساقط ہیں،کیونکہ شرعی احکام کے واجب ہونے کےلئے ضروری ہے کہ آدمی کو کم از کم  ان کی پہچان ہو۔تاہم اگر  اس کو صرف وضو یا نماز کی ترتیب میں مسئلہ درپیش ہو،یا رکعات کی تعداد میں  مسئلہ ہو،تو پھر  اس صورت میں شرعی احکامات ساقط نہیں ہوں گے،بلکہ ضروری  ہے کہ یا تو اس کو جماعت کی نماز میں شریک  کیا جائے،تاکہ دوسروں کے دیکھا دیکھی وہ بھی نماز پوری کرے اور یا کوئی قریب میں بیٹھ کر ان کو تلقین کیا  کرے،کہ اب   رکوع کرے،اب سجدہ کرے وغیرہ۔
اصول الفقه الإسلامي:
المحكوم عليه: هو الشخص الذي تعلق خطاب الله تعالى بفعله.ويسمى بالمكلف. ويشترط في المحكوم عليه شرطان:الأول: أن يكون المكلف قادرا على فهم دليل التكليف،لأن التكليف خطاب،وخطاب من لا عقل له ولا فهم محال والقدرة على الفهم تكون بالعقل،لأن العقل هو أداة الفهم والإدراك.
(الفصل الرابع:المحكوم عليه:1/158:المكتبة الرشيدية)
الفتاوى الهندية:
مصل أقعد عند نفسه إنسانا فيخبره إذا سها عن ركوع أو سجود يجزيه إذا لم يمكنه إلا بهذا كذا في القنية.
(باب في صلوة المسافر:1/ 138:ط:دارالفكر)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
(قوله: ولو اشتبه على مريض إلخ) أي بأن وصل إلى حال لايمكنه ضبط ذلك، وليس المراد مجرد الشك والاشتباه لأن ذلك يحصل للصحيح (قوله: ينبغي أن يجزيه) قد يقال إنه تعليم وتعلم وهو مفسد كما إذا قرأ من المصحف أو علمه إنسان القراءة وهو في الصلاة ط.قلت: وقد يقال إنه ليس بتعليم وتعلم بل هو تذكير أو إعلام فهو كإعلام المبلغ بانتقالات الإمام، فتأمل.
      (باب صلوة المريض:2/100:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب