نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جب کاروبار میں ایک طرف سے سرمایہ ہو اور دوسری طرف سے کام ،تو اس کو شریعت کی اصطلاح میں "مضاربت " کہا جاتاہے،اور مضاربت کے صحیح ہونے کےلئے ضروری ہے کہ نفع میں شرکت فیصد کے اعتبار سے طے ہو،بصورتِ دیگر عقد درست نہیں ہوگا۔
بصورتِ مسئولہ:
1- چونکہ "نفع" سرمایہ کی بنیاد پر طے ہے جو کہ شرعا جائز نہیں،اس لئے مذکورہ عقد درست نہیں ہوا ہے۔بلکہ فاسد ہوا ہے،اور مضاربت جب فاسد ہوجائے،تو نفع سارا کا سارا مالک کا ہوتا ہے،اور مضارب کو اجرتِ مثل دی جاتی ہے،لہذا مذکورہ صورت میں اگر مضارب کو نفع کی مقدار یاد ہے،تو کل نفع سرمایہ سمیت رب المال کے حوالہ کرے،اور اس نے جتنا کا م کیا ہے تو تاجروں کے عرف کے مطابق اس کو اس کے کام کا عوض دیا جائےگا۔اور اگر نفع کی مقدار یا د نہیں، یا حساب لگانا مشکل ہے،اور آسانی کے پیشِ نظر جو مضارب نے بطورِ نفع کمایا اور کھایا ہے،اس کو دونوں فریقین باہمی رضامندی سے اجرت قرار دیں،اور جو رب المال کےلئے تیرہ فیصد طے ہے،اس کو بطورِ نفع قرار دیا جائے،تو اس کی بھی گنجائش ہے،لیکن آئیندہ کےلئے اس عقد کو اس طریقے سے برقرار رکھنا شرعا جائز نہیں ہوگا۔
2-جو آدمی بلا وجہ کسی کا حق روکے رکھے،اس کی شریعت میں سخت مذمت کی گئی ہے،ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ وسعت کے باوجود اگر کوئی آدمی حق کی ادائیگی میں تاخیر اور ٹال مٹول سے کام لیتا ہے،تو یہ ظالم ہے،اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔مذکورہ صورت میں چونکہ عقد فاسد ہے ،اس لئے اگر رب المال اپنے مال کا مطالبہ کرتا ہے،تو اس کو بروقت اس کی رقم واپس کرنا چاہئے۔
سنن الترمذي :
عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال مطل الغني ظلم وإن أتبع أحدكم على ملي فليتبع.
( باب ما جاء في مطل الغني أنه ظلم: 3/ 600:داراحياء التراث العربي)
البحر الرائق :
الرابع أن يكون الربح بينهما شائعا كالنصف والثلث لا سهما معينا يقطع الشركة كمائة درهم أو مع النصف عشرة ، الخامس أن يكون نصيب كل منهما معلوما فكل شرط يؤدي إلى جهالة الربح فهي فاسدة وما لا فلا مثل أن يشترط أن تكون الوضيعة على المضارب أو عليهما فهي صحيحة وهو باطل، السادس أن يكون المشروط للمضارب مشروطا من الربح حتى لو شرطا له شيئا من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت وحكمها أنه أمين بعد دفع المال إليه ووكيل عند العمل وشريك عند الربح وأجير عند الفساد فله أجر مثله والربح كله لرب المال
(كتاب المضاربة: 7/ 264:دارالمعرفة)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔