سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-521 Fatwa no: 1447-521

حکومت کا تنخواہوں سیلاب زدگان کےلئے ملازمین کی میں سے زبردستی ایک دن کی تنخواہ کاٹنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حالیہ سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے،وہ آپ سب کے سامنے ہے، کئی دیہات سیلاب بہا کر لے گیا ہے ،اب ان علاقوں میں فنڈ کی اشد ضرورت ہے،اس لئے ایک صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جبری طور پر ملازمین کی تنخواہوں میں سے ایک دن کی تنخواہ کاٹی جائیگی،تاکہ سیلاب زدگان کی مدد کی جاسکے،لیکن اکثر ملازمین اس اقدام کی مخالف کرتے ہیں۔کیونکہ ان کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں ان کی جمع شدہ رقم بے جا استعمال نہ ہو۔تو کیا اس صورت میں صوبائی حکومت کا جبر درست ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔
جواب :

 شریعت  کی بنیادی اصول  میں سے ایک اصل یہ ہے  کہ  کسی کی ذاتی ملکیت میں اس کی مرضی کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں۔
شریعت کا یہ اصول  قرآن مجید کی آیات اور آپ ﷺ کی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔چنانچہ  اللہ تعالی کا ارشاد ہے"لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِل" (آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ)،اسی  طرح آپﷺ کی ارشاد گرامی ہے"لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ"( کسی مسلمان کا مال اس کی رضا کے بغیر لینا حلال نہیں ہے)
اس آیت اور حدیث مبارک سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے،کہ کسی کے مال و جائیداد میں اس کی  مرضی کے بغیر کسی قسم کا تصرف کرنا شرعا جائز نہیں۔
لہذا مذکورہ صورت میں   تنخواہ، چونکہ  ملازم کی محنت کا معاوضہ اور ذاتی ملکیت ہے، اس میں زبردستی کٹوتی کرنا ظلم اور ناجائز شمار ہوگا، اگرچہ مقصد فلاحی ہی کیوں نہ ہو۔لہذا اس سے احتراز کرنا چاہئے۔
باقی سوال یہ  بنتا ہے کہ پھر سیلاب زدگان کو بے سہارا چھوڑ دیا جائے؟  ہرگز نہیں،بلکہ سیلاب زدگان کی مدد کےلئے  پاکستان کا قومی ادارہ: National Disaster Management Authority (NDMA)موجود ہے،اور اس کےلئے اربوں روپے  مختص کےلئے جاتے ہیں،لہذا  اس ادارے کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔ اس کے علاوہ ہر صوبے  کےلئے ایسی ہنگامی صورتِ حال کےلئےپہلے سےCM Relief Fund، مختص ہوتا ہے،اس کو برمحل استعمال کرنا چاہئے۔
اس کے علاوہ  چاہے  ملازمین ہو ں یا غیر ملازمین اس مشکل گھڑی میں اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے  ہونا ان کی اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے،لہذا ان کو چاہئے کہ اپنےاخراجات میں سے ایک معتدبہ حصہ نکال کر ان مصیبت زدہ لوگوں کی ضرور مدد رکریں۔یہ مدد  براہ راست بھی کی جاسکتی ہے اور کسی تنظیم کے  ذریعے بھی۔
قال الله تعالى:يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا } [النساء: 29]
في تفسير ابن كثير :نهى  تبارك وتعالى عباده المؤمنين عن أن يأكلوا أموال بعضهم بعضا بالباطل، أي: بأنواع المكاسب التي هي غير شرعية، كأنواع الربا والقمار، وما جرى مجرى ذلك من(النساء:2/ 268:دارطيبة للنشر والتوزيع)
وفي السنن الكبرى:لايحل مال امرئ من اخيه الاما اعطاه من طيب نفس                                                                     (كتاب الغصب:باب لايملك احد بالجنابة:6/160:بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب