سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-48 Fatwa no: 1447-48

انشورنس کمپنی کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: میں ایک انشورنس کمپنی میں کام کرنا چاہتا ہوں ، میرا کام صرف اور صرف نیٹ ورکنگ کا ہوگا ، یعنی کمپنی کے ملازمین کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ اور اس سے جڑے کمپنی کے نظام کو فراہمی اور استعمال میں سہولت اور آسانی کو برقرار رکھنا ہے ، میرے ذمہ کوئی ایسا سافٹ وئیر وغیرہ بنانا نہیں جوکہ سود یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور کیلکولیشن کرنا ہے،اب کیا مجھے اس کمپنی میں کام کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں ؟حالانکہ میرے لئے سابقہ جاب میں کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔

جواب :

بصورت مسئولہ مذکورہ کمپنی میں ملازمت کی صورت میں چونکہ آپ   کسی سودی کام میں نہ شریک ہیں اور نہ براہ راست معاون  ہیں(یعنی نہ سودی کام کرتےہیں،نہ لکھتے ہیں اور نہ ہی اس میں گواہ بنے ہیں) جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ، اس لئے آپ کیلئے  یہ ملازمت جائز ہے اور اسکی اجرت حلال ہے ، تاہم یہ کام ایک ناجائز کام کرنے والی کمپنی کا تعاون ضرور ہے ، اس لئے بہتر ہوگا کہ کسی اور کمپنی میں کام تلاش کریں تاکہ آپ کا کاروبارشک وشبہ سے بھی  بالاتر ہو۔
كما في فقه البيوع :
وكذلك الحكم في برمجة الحاسب الآلي(الكمبيوتر)لبنك ربوي،فإن قصد بذلك الإعانة،أوكان البرنامج مشتملا علي مالايصلح إلا في الأعمال الربوية،أو الأعمال المحرمة الأخري،فإن العقد حرام وباطل،أما إذا لم يقصد الإعانة،وليس في البرنامج مايتمحض للأعمال المحرمة ،صح العقد وكره تنزيها؛وعلي هذا الأساس يمكن تخريج مسائل حديثة كثيرة من هذا النوع.
(إن كان أحد العاقدين يقصد بالعقد ارتكاب معصية،ج1،ص187،ط:مكتبة معارف القرآن)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب