سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-522 Fatwa no: 1447-522

ضرورت کی بناء پر انشورنس کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے اپنی بیٹی کی اسٹیٹ لائف انشورنس کرائی ہے جوکہ سالانہ 21000 ہزار روپے دینے ہوں گے،اور یہ میں 20 سال تک ادا کروں گی،اور اس حساب سے وہ مجھے 15 یا19 لاکھ روپے دیں گے۔میری ایک بیٹی ہے جس کی ذمہ دار میں خود ہوں،میں اپنی امی کے پاس رہتی ہوں۔یہ انشورنس جائز ہے یا حرام ؟ میں خود محنت کرکےاپنا اور اپنی بیٹی کا خرچ کرتی ہوں،اس کے علاوہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ ہمیں کسٹمر لاکر دیں ،ہم اس پر آپ کو کمیشن دیں گے،تو یہ بھی بتادیں کہ کیا یہ کمیشن میرے لئے جائز ہے یا نہیں ؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ انشورنس کرنا خواہ جس مقصد کےلئے بھی ہو،شرعا ناجائز اور حرام ہے،لہذا اس سے احتراز ضروری ہے،عدمِ جواز کی وجہ یہ ہے،کہ انشورنس سود اور قمار(جوا)  پر مشتمل ہے، ،اور سود  اور قمار(جوا)کوقرآن مجید اور احادیث مبارکہ  نے صراخت کےساتھ حرام قرار دیا ہے،اس لئے اس سے بچنا ضروری ہے۔انشورنش کے  متبادل کے طورعلماء کرام کی سرپرستی میں "تکافل"کو تشکیل دیاگیاہے،اس  لئے ان کےساتھ مطلوبہ معاملہ کیا جاسکتاہے
 فتاوی عثمانی میں مذکور ہے:انشورنس کی جتنی صورتیں فی زماننا رائج ہیں،سب ناجائز ہیں،کیونکہ وہ سب سود اور قمار پر مشتمل ہیں۔(کتاب الرباوالقمار:3/328:ط:مکتبۃ معارف القرآن)
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ انشورنس حرام ہے تو پھر اس کے لئے بطورِ کمیشن ایجنٹ کا م کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ یہ ناجائز اور حرام کام میں معاونت  ہے اور حرام کام میں معاونت  ناجائز ہے۔

قال الله تعالى:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ.
      [المائدة: 02]
قال الله تعالى:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ } 
      [المائدة: 90، 91]
حاشية ابن عابدين:
قوله ( لأنه يصير قمارا ) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص
       (فرع: 6/ 403:ط:دارالفكر)
 الفقه الإسلامي وأدلته:
ويتبين من التعريف أيضاً أن التأمين من عقود الغرر، إذ لا يعرف وقت العقد مقدار ما يعطي كل من العاقدين أو يأخذ، فقد يدفع المستأمن قسطاً واحداً من الأقساط، ثم يقع الحادث، وقد يدفع جميع الأقساط، ولا يقع الحادث...وأما الربا: فمن المؤكد أن عوض التأمين ناشئ من مصدر مشبوه، لأن كل شركات التأمين تستثمر أموالها في الربا، وقد تعطي المستأمن (المؤمن له) في التأمين على الحياة جزءاً من الفائدة، والربا حرام قطعاً. ثم إن الربا واضح بين العاقدين: المؤمِّن والمستأمن؛ لأنه لا تعادل ولا مساواة بين أقساط التأمين وعوض التأمين، فما تدفعه الشركة قد يكون أقل أو أكثر، أو مساوياً للأقساط، وهذا نادر، والدفع متأخر في المستقبل، فإن كان التعويض أكثر من الأقساط، كان فيه ربا فضل وربا نسيئة، وإن كان مساوياً ففيه ربا نسيئة، وكلاهما حرام.
 (6/ 4183:دارالفكر-بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب