سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-523 Fatwa no: 1447-523

طلاق دینے کے بعد شوہر کو طلاق یاد نہ ہو اور بیوی دو طلاقوں کا دعوی کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر شوہر انتہائی غصے کی حالت میں بیوی کو طلاق دے دے اور شوہر کو طلاق کی تعداد یاد نہ ہو جبکہ بیوی دو طلاقوں کا اقرار کرتی ہے اور شوہر کے بھائی بہن اور والدین تین طلاقوں کی گواہی دیتے ہیں تو اس صورت میں طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں اگر ہو چکی ہے تو کتنی اور کون سی طلاق ہو چکی ہے؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ  چونکہ میاں بیوی دونوں طلاق واقع ہونے کے اقراری  ہیں البتہ  میاں کو تعداد  یاد ہی نہیں جبکہ بیوی  دو طلاقوں کا دعوی کرتی ہے۔ایسی  صورت میں گواہان کی گواہی شرعا متعبر ہوتی ہے۔بشرطیکہ گواہ عادل ہوں۔لہذا  مذکورہ صورت میں جب شخصِ مذکور کے بھائی بہن(اگر دونوں یا ان میں سے ایک بالغ ہو) اور والدین چونکہ تین طلاقوں کی گواہی دیتے ہیں،اس لئے شخصِ مذکور کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔اب دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے  نہیں رہ سکتے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کی کوئی گنجائش ہے الاً یہ کہ خاتون کسی دوسری جگہ نکاح  کرے،پھرازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد اس کاشوہر  اسے طلاق دے یا  مرجائے،اور خاتون عدت پوری کرے۔اس کے بعد اگر وہ اپنی مرضی سے اپنے سابقہ شوہر سے  نکاح کرنا چاہتی ہے تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں کرسکتی ہے۔
وقال الله تعالی:
( الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ....الآية (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(البقرة،229،230)
المبسوط للسرخسي:
قال: وإذا شهد شاهدان على رجل أنه طلق امرأته ثلاثا وجحد الزوج والمرأة ذلك. فرق بينهما لأن المشهود به حرمتها عليه والحل والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه من غير دعوى كما لو شهدوا بحرمتها عليه.والحل والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه بنسب أو رضاع أو مصاهرة وهذا لأنهم يشهدون أن وطأه إياها بعد هذا زنا والشهادة على الزنى تقبل من غير دعوى فكذلك على ما يتضمن معنى الزنى.(كتاب الطلاق: 6/ 263:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب