نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ چونکہ میاں بیوی دونوں طلاق واقع ہونے کے اقراری ہیں البتہ میاں کو تعداد یاد ہی نہیں جبکہ بیوی دو طلاقوں کا دعوی کرتی ہے۔ایسی صورت میں گواہان کی گواہی شرعا متعبر ہوتی ہے۔بشرطیکہ گواہ عادل ہوں۔لہذا مذکورہ صورت میں جب شخصِ مذکور کے بھائی بہن(اگر دونوں یا ان میں سے ایک بالغ ہو) اور والدین چونکہ تین طلاقوں کی گواہی دیتے ہیں،اس لئے شخصِ مذکور کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔اب دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے نہیں رہ سکتے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کی کوئی گنجائش ہے الاً یہ کہ خاتون کسی دوسری جگہ نکاح کرے،پھرازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد اس کاشوہر اسے طلاق دے یا مرجائے،اور خاتون عدت پوری کرے۔اس کے بعد اگر وہ اپنی مرضی سے اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں کرسکتی ہے۔
وقال الله تعالی:
( الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ....الآية (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(البقرة،229،230)
المبسوط للسرخسي:
قال: وإذا شهد شاهدان على رجل أنه طلق امرأته ثلاثا وجحد الزوج والمرأة ذلك. فرق بينهما لأن المشهود به حرمتها عليه والحل والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه من غير دعوى كما لو شهدوا بحرمتها عليه.والحل والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه بنسب أو رضاع أو مصاهرة وهذا لأنهم يشهدون أن وطأه إياها بعد هذا زنا والشهادة على الزنى تقبل من غير دعوى فكذلك على ما يتضمن معنى الزنى.(كتاب الطلاق: 6/ 263:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔