نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمسجد کے اندر نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے دونوں قسم کی احادیث مروی ہیں،بعض احادیث سے جواز معلوم ہوتا ہے،جیساکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے۔عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم فرمایا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد سے گزار جائے تاکہ وہ بھی ان پر نمازہ جنازہ ادا کریں۔تو لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات کو ناپسند کیا،تو انہوں نے فرمایا کہ تعجب ہے کہ لوگ اتنی جلدی بھول جاتے ہیں ،حالانکہ آپﷺ نے سہیل (رض) کا جنازہ مسجد ہی میں پڑھایا تھا"
اس روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے اندازِ گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا بغیر کسی کراہت کے جائز ہے۔اسی طرح حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ بھی مسجد میں ادا کی گئی تھی،اس سے بھی جواز معلوم ہوتا ہے۔اور یہی امام شافعی ؒ کا قول بھی ہے۔
دوسری طرف ابوداؤ شریف کی روایت ہے ،جس میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا "جس نے مسجد میں کسی میت کا جنازہ پڑھا،اس کےلئے کوئی اجر نہیں"اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔اور یہی احناف کا قول ہے۔
بظاہر روایات میں تعارض ہے،اور احناف کے متفقہ اصول میں سے ایک اصل یہ ہے کہ جب احادیث میں تعارض آجائے،تو سب سے پہلے تطبیق کی کوشش کی جائیگی،تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہوسکے ،بصورتِ دیگر ترجیح کا راستہ اختیار کیا جائے گا،یعنی کسی ایک حدیث کو شواہد،عمومی قواعد اور قرائن کو سامنے رکھ کر ترجیح دی جائیگی۔
چنانچہ اسی ضابطہ کو سامنے رکھ کر محدثین اور فقہائے کرام نے دونوں احادیثوں کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔
علامہ ابن عابدینؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) کی حدیث حالتِ عذر پر محمول ہے، کیونکہ بارش کی وجہ سے حضرت سہیل پر نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھایا گیا تھا،اور بعض روایات میں اس کی صراحت بھی ہے،جبکہ ممانعت کی جو حدیث ہے وہ عام حالت پر محمول ہے۔
صاحب فتح القدیر فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اباحت پر محمول ہے یعنی مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا مباح ہے،جبکہ ابوداؤد شریف کی روایت کردہ حدیث کراہتِ تنزیہی پر محمول ہے،جو خلافِ اولی کے معنی میں ہے۔ یوں دونوں حدیثوں پر عمل ہوسکےگا۔اسی قول کو علامہ شامیؒ نے بھی مناسب قراردیا ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں"وإذا ضاق الأمر اتسع فينبغي الإفتاء بالقول بكراهة التنزيه الذي هو خلاف الأولى كما اختاره المحقق ابن الهمام وإذا كان ما ذكرناه عذرا فلا كراهة أصلا والله تعالى أعلم"
خلاصہ کلام:خلاصہ یہ کلام یہ ہوا کہ اگر نمازِ جنازہ کسی عذر کی بنا ء پر مسجد میں پڑھی جائے،جیساکہ پوچھے گئے سوال میں ہےتو احناف کے نزدیک کے بھی بغیر کسی کراہت کے جنازہ مسجد میں پڑھنا جائز ہے اور اگر بغیر عذر کے ہو،تو دونوں احادیث کو قابل عمل بنانے کے خاطر کراہت پر فتوی دیا جائےگا۔
بصورت مسئولہ عذر کی وجہ سےبغیر کسی کراہت کے مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کی گنجائش تھی،بہرحال اب چونکہ معاملہ ختم ہوگیا ہے،اس لئے اس کو دوبارہ تازہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
في صحيح مسلم:حدثني علي بن حجر السعدي وإسحاق بن إبراهيم الحنظلي واللفظ لإسحق قال علي حدثنا وقال إسحاق أخبرنا عبد العزيز بن محمد عن عبد الواحد بن حمزة عن عباد بن عبد الله بن الزبير أن عائشة أمرت أن يمر بجنازة سعد بن أبي وقاص في المسجد فتصلي عليه فأنكر الناس ذلك عليها فقالت * ما أسرع ما نسي الناس ما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على سهيل بن البيضاء إلا في المسجد(باب الصلاة على الجنازة في المسجد: 2/ 668)
في سنن أبى داود : عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « من صلى على جنازة فى المسجد فلا شىء عليه ».(دارالكتاب العربي: باب الصلاة على الجنازة في المسجد3/ 182)
في فتح القدير:( قوله ولا يصلى على ميت في مسجد جماعة ) في الخلاصة مكروه وسواء كان الميت والقوم في المسجد ، أو كان الميت خارج المسجد والقوم في المسجد ، أو كان الإمام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقون في المسجد ، أو الميت في المسجد والإمام والقوم خارج المسجد .هذا في الفتاوى الصغرى .قال : هو المختار خلافا لما أورده النسفي رحمه الله ا هـ .
وهذا الإطلاق في الكراهة بناء على أن المسجد إنما بني للصلاة المكتوبة وتوابعها من النوافل والذكر وتدريس العلم .وقيل لا يكره إذا كان الميت خارج المسجد ، وهو بناء على أن الكراهة لاحتمال تلويث المسجد ، والأول هو الأوفق لإطلاق الحديث الذي يستدل به المصنف ، ثم هي كراهة تحريم أو تنزيه ؟ روايتان ، ويظهر لي أن الأولى كونها تنزيهية ، إذ الحديث ليس هو نهيا غير مصروف ولا قرن الفعل بوعيد بظني بل سلب الأجر ، وسلب الأجر لا يستلزم ثبوت استحقاق العقاب لجواز الإباحة …وما في مسلم { لما توفي سعد بن أبي وقاص قالت عائشة : ادخلوا به المسجد حتى أصلي عليه ، فأنكروا ذلك عليها فقالت : والله لقد صلى النبي صلى الله عليه وسلم على ابني بيضاء في المسجد سهيل وأخيه } قلنا : أولا واقعة حال لا عموم لها فيجوز كون ذلك كان لضرورة كونه كان معتكفا ، ولو سلم عدمها فإنكارهم وهم الصحابة والتابعون دليل على أنه استقر بعد ذلك على تركه.... وإن كان في الإباحة وعدمها فعندهم مباح وعندنا مكروه ، فعلى تقدير كراهة التحريم يكون الحق عدمها كما ذكرنا ، وعلى كراهة التنزيه كما اخترناه فقد لا يلزم الخلاف لأن مرجع التنزيهية إلى خلاف الأولى فيجوز أن يقولوا : إنه مباح في المسجد ، وخارج المسجد أفضل فلا خلاف.ثم ظاهر كلام بعضهم في الاستدلال أن مدعاهم الجواز وأنه خارج المسجد أفضل فلا خلاف حينئذ .وما ذكرناه من الوجه قاطع في أن سنته وطريقته المستمرة لم تكن إدخال الموتى المسجد ، والله سبحانه أعلم.( فصل في الصلوة على الميت:3/ 397:الشاملة)
في حاشية ابن عابدين:إنما تكره في المسجد بلا عذر فإن كان فلا ومن الأعذار المطر كما في الخانية والاعتكاف كما في المبسوط كذا في الحلية(فصل في صلوة الجنازة: 2/ 226:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔