سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-525 Fatwa no: 1447-525

سلسلہ اویسیہ کی حقیقت اور اس کا طریقہ کار

براہ راست فتویٰ
سوال :
عرض یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل مولانا اللہ یار خان چکڑاولوی صاحب نے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے نام سے ذکر پاس انفاس کے طریقہ پرسلسلہ کی بنیاد رکھی تھی اورمینارہ چوک چکوال میں امیر محمد اکرم اعوان کی زیرنگرانی بڑا مرکز تعمیر کرایا تھا۔ان حضرات کا دعوی یہ ہے کہ لطائف سے گزارتے ہوئے مراقبات اور پھر سالکین کو حضورﷺ کے دست مبارک پر روحانی بیعت کروائی جاتی ہے اور سلسلہ ہذا میں بہت تیزی سے ترقی ہوتی ہے۔اس بارے میں ہمارے مشائخِ نقشبند کی رائے جاننا مقصود ہے کہ آیا سلسلہ ہذا ہمارے بزرگان کے طریقے کے مطابق ہے یا نہیں ۔سا
جواب :

بصورت  مسئولہ بیعت وطریقت کے مشہور  سلسلے چار  ہیں یعنی نقشبندیہ،قادریہ،چشتیہ اور سہروردیہ۔ان سلاسل میں  جو بات مشترک ہے وہ یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی نیک،صالح اور متشرع آدمی کے ہاتھ پر توبہ  کرتا ہے اور پھر ان سے اسباق لے کر تربیت پاتاہے۔جبکہ سلسلہ اویسیہ  -جو اویس قرنیؒ کی طرف منسوب ہے-  کا  طریقہ کار ان سلاسل سے مختلف ہے۔اس سلسلے میں سالک کو بعض مخصوص اذکار جیسے پاس انفاس  کرائے  جاتے ہیں اور پھر براہ راست روحِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے فیض حاصل کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے اور  اسی کی مشق بھی کرائی جاتی ہے(جیساکہ سوال میں مذکور ہے) اس سلسلے کا طریقہ کار اگر یہی ہے کہ وہ  کسی زندہ بزرگ کی صحبت کے بجائے روحانی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کرنے کے قائل ہیں۔تو صرف اس وجہ سے اس کو غلط نہیں کہا جاسکتا،جب تک ان سے کسی غیر شرعی فعل کا ارتکاب نہ  ہوا ہو۔البتہ چونکہ اس سلسلے میں خواب،کشف اور الہام کو کافی اہمیت دی جاتی ہے،جو کہ بذات خود مقصود نہیں ،اور ضروری نہیں کہ ہر خواب،ہرالہام  یا ہر کشف صحیح بھی ہو۔اس لئے اس سلسلے کے سالکین کو ہمیشہ احتیاط کا دامن تھامے رکھنا چاہئے۔اس سلسلے  میں ایک تفصیلی فتوی  دارالعلوم دیوبند نے جاری کیا ہے۔بغیر کسی کمی وزیادتی کے ملاحظہ ہو۔
اویسیہ سلسلہ کیا ہوتاہے؟
سوال:(۱) اویسیہ سلسلہ کیا ہوتاہے؟ (۲) کیا یہ سلسلہ بھی مستند ہے؟ (۳) آج کل کیا اس سلسلہ کو کوئی چلا رہاہے یا چلا سکتاہے؟ (۴)اس سلسلہ میں تربیت کا انداز کس طرح ہوتاہے؟ یعنی سالک کی تریبت کون کرتاہے؟ (۵) کیا کوئی خواب یا مراقبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اذکار وغیرہ لے سکتاہے؟ اور کیا اس کی پابندی کرنا ضروری ہے؟ (۶) زید جو کہ الحمد للہ، پابند شریعت ہے ، کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے اجتناب کرتاہے تہجد گذار ہے، اس نے عبد اللہ سے کہا ہے کہ مراقبہ میں زید کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات نصیب ہوتی ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبد اللہ سے کہو کہ وہ فلاں فلاں اذکار کرے ، تو کیا عبدا للہ وہ اذکار کرسکتاہے؟ یعنی کس حد تک ضروری ہے؟ جب کہ زید متقی اور پارسا ہے کہ علماء بھی ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ (۷) اویسیہ سلسلہ رائج کیوں نہیں ہے؟
جواب نمبر: 62377
بسم الله الرحمن الرحيم
(1،2)سلسلہ اویسیہ حضرت اُویس قرنی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے، اور اصطلاحاً نسبتِ اویسیت کے معنی روحی فیض کے ہیں یعنی اگر کسی بزرگ کو کسی دوسرے بزرگ سے روحی فیض حاصل ہو اور بہ ظاہر فیضِ صحبت حاصل نہ ہواہو اس کو کہا جائے گا کہ یہ طریقِ اویسیہ ان کو فیض حاصل ہے، چونکہ حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روحی فیض حال ہوا اور صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کو حاصل نہیں ہوئی اس لیے جس کو روحی فیض کسی بزرگ سے حاصل ہوگا اس کو نسبتِ اویسیت کے لیے ضروری نہیں کہ وہ حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سے مرید ہو، یہ سلسلہ بھی صحیح اور مستند ہے، حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز سے مولانا خرم علی صاحب مترجم قولِ جمیل (شفاء العلیل) میں نقل فرماتے ہیں: فائدہ: مولانا نے فرمایا کہ میں نے حضرت ولی نعمت یعنی مصنف سے پوچھا کہ شیخ ابوعلی فارمدی کو کہ ابوالحسن خرقانی کے ساتھ نسبت رکھتے ہیں اس رسالہ میں کیوں نہ ذکر کیا، فرمایا کہ یہ نسبت ا ویسیت کی ہے، یعنی روحی فیض ہے، اور اس رسالہ میں غرض یہ ہے کہ نسبت صحبت کی من وعن عالم شہادت میں جو ثابت ہے مذکور ہو، ولیکن اویسیت کی نسبت قوی اور صحیح ہے، شیخ علی فارمدی کو ابوالحسن خرقانی سے روحی فیض ہے، اور ان کو بایزید بسطامی کی روحانیت سے اور ان کو امام جعفر صادق کی روحانیت سے تربیت ہے، چنانچہ رسالہ قدسیہ میں خواجہ محمد پارسا علیہ الرحمة نے مذکور کیا ہے انتہی (شفاء العلیل ترجمہ قول جمیل: ۱۶۲) (۳) اس کے بارے میں ہمیں علم ہیں ہے کہ کوئی اس سلسلہ کو چلا رہا ہے یا نہیں؛ البتہ جس طرح سابق میں اس کے اہل اس کو چلاتے رہے ہیں آج بھی اگر کوئی باکمال پیدا ہوجائے تو اس سلسلے کو جاری کرسکتا ہے۔ (۴) اس کا تعلق روحانیت سے ہے یعنی کسی شخص کو کسی بزرگ سے جس سے صحبت حاصل نہ ہو ایسی نسبت حاصل ہو جاتی ہے جس سے وہ استفادہ کرتا ہے باقی تفصیل کوئی اس طریق کا ماہر ہی بتاسکتا ہے۔ (۵) (۶) خواب یا مراقبہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی نیک کا م کرنے کا حکم کریں تو اس پر عمل کرلینا مستحب ہے۔ قال المظہر: ہذا تصریح بأن من رأی روٴیا یستحب أن یعمل بہا في الیقظة إن کانت تلک الروٴیا شیئًا فیہ طاعة مثل أن یری أحد أن یصلي أو یصوم أو یتصدق بشيء من مالہ أو یزور صالحًا وما أشبہ ذلک (مرقاة: ۹/ ۴۲)․ (۷) اس کی وجہ معلوم نہیں۔

في مشكاة المصابيح : وعن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وحوله عصابة من أصحابه : " بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا ولا تسرقوا ولا تزنوا ولا تقتلوا أولادكم ولا تأتوا ببهتان تفترونه بين أيديكم وأرجلكم ولا تعصوا في معروف فمن وفى منكم فأجره على الله ومن أصاب من ذلك شيئا فعوقب به في الدنيا فهو كفارة له ومن أصاب من ذلك شيئا ثم ستره الله عليه في الدنيا فهو إلى الله : إن شاء عفا عنه وإن شاء عاقبه " فبايعناه على ذلك(كتاب الايمان:الفصل الاول:1/ 4:ط:المكتبة الاسلامي)
في شفاء العليل مع القول الجميل:فأقول أما المسئلة الأولى فاعلم أن البيعة سنة وليست بواجبة لأن الناس بايعوا النبي صلى الله عليه السلام وتقربوا بها إلى الله تعالى ولم يدل دليل على تاثيم تاركها ولم ينكر أحد من الأئمة على أنها ليست بواجبة.(الفصل الاول:ص:19:ايج ايم سعيد)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب