نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ شریعت میں میاں بیوی کی جدائی کے بعد بچوں کی پرورش کا حق والدہ کو ہوتا ہے تاہم اگر کسی وجہ سے والدہ بچوں کی پرورش نہ کرسکتی ہو،تو پھر پرورش کا حق دادی کا ہے۔
بصورت مسئولہ بچے کی پرورش کا حق سب سے پہلے بچے کی ماں کو ہے،آپﷺ نے ایک خاتون کو فرمایا تھا"آپ اس بچے کی پرورش کے زیادہ حق دار ہیں،جب تک دوسری جگہ نکاح نہ کرلو"اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیوی کو طلاق دی ، اور پھر اس سے بچہ (عاصم) لینا چاہا،جبکہ خاتون نے انکار کیا،تو معاملہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ،آپ نے فرمایا :عمر!(بچے کو اس کے پاس چھوڑدیں،کیونکہ )ماں کا اس کو چھونا،گود میں لینا اور اس(ماں ) کی خوشبو بچے کےلئے آپ سے زیادہ بہتر ہے"اور عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ بچہ کچھ عرصہ کے لئے والدہ کی پرورش و تربیت میں ہو،کیونکہ بچہ رحمت اور شفقت کا محتاج ہوتا ہے،اور وہ سب سے زیادہ والدہ میں پائی جاتی ہے۔لہذا احناف کے ہاں سات سال تک ماں بچے کی پرورش کی حقدار ہے،اس کے بعد والد کے حوالہ کیا جائےگا،اور ان سات سالوں کا خرچہ والد ہی برداشت کرےگا۔لیکن اگر بچے کی ماں واقعتاً بیمار ہو،جیساکہ سوال میں مذکور ہے یا وہ تیار نہ ہو،تو پھر بچے کی پرورش کا زیادہ حق دار اس کی نانی ہے اور نانی کی غیر موجودگی میں دادی ،پھر خالہ وغیرہ۔
سنن أبى داود:
حدثنى عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عبد الله بن عمرو أن امرأة قالت يا رسول الله إن ابنى هذا كان بطنى له وعاء وثديى له سقاء وحجرى له حواء وإن أباه طلقنى وأراد أن ينتزعه منى فقال لها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « أنت أحق به ما لم تنكحى »
(دارالكتاب العربي: 2/ 251:دارالكتاب العربي)
مصنف ابن أبي شيبة:
عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب طلق أم عاصم , ثم أتى عليها , وفي حجرها عاصم , فأراد أن يأخذه منها , فتجاذباه بينهما حتى بكى الغلام , فانطلقا إلى أبي بكر فقال له أبو بكر : يا عمر ، مسحها وحجرها وريحها خير له منك حتى يشب الصبي فيختار.
(فصل في الرجل يطلق إمرأته ولها ولد صغير: 5/ 238)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
وأما عندنا فالولد إذا صار مستغنيا بأن يأكل وحه ويشرب وحده ويلبس وحده قيل ويستنجي وحده ويتوضأ وحده فالأب أحق به والخصاف قدر الاستغناء بسبع سنين وعليخ الفتوى وكذا في الكافي وغيره.
(باب بلوغ الصغير وحضانته: 10/ 376)
فتح القدير:
( قوله فإن لم تكن ) أي لم تكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل أحد وإن علت .
(باب الولد من أحق به: 9/ 398)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔