سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-526 Fatwa no: 1447-526

علیحدگی کے بعد ماں کی بیماری کی صورت میں بچے کی پرورش کا کیا حکم ہے

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوگئی ہے،باقی معاملات صاف ہوگئے،اب چھوٹے بچے کی پرورش کا مسئلہ ہے،بچے کی ماں بیمار ہے،زہنی طور پر کمزور ہے اور بچے کی پرورش نہیں کرسکے گی،اس صورت میں بچے کی پرورش کی ذمہ داری کس کے ہوگی اور بچے کا نان ونفقہ کس کے ذمہ ہوگا۔شرعی دلائل کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔شکریہ
جواب :

واضح رہے کہ شریعت میں میاں بیوی کی جدائی کے بعد بچوں کی پرورش کا حق والدہ کو ہوتا ہے تاہم اگر کسی وجہ سے والدہ بچوں کی پرورش نہ کرسکتی ہو،تو پھر پرورش کا حق دادی کا ہے۔
بصورت مسئولہ  بچے کی پرورش کا حق سب سے پہلے بچے کی ماں  کو ہے،آپﷺ نے ایک خاتون کو فرمایا تھا"آپ اس بچے کی پرورش کے زیادہ حق دار ہیں،جب تک دوسری جگہ  نکاح نہ کرلو"اسی طرح   ایک روایت  میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیوی کو طلاق دی ، اور پھر اس سے بچہ (عاصم) لینا چاہا،جبکہ خاتون نے  انکار کیا،تو معاملہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ،آپ نے  فرمایا :عمر!(بچے کو اس کے پاس چھوڑدیں،کیونکہ )ماں کا اس کو چھونا،گود میں لینا اور اس(ماں ) کی خوشبو بچے کےلئے آپ سے زیادہ بہتر ہے"اور عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے  کہ بچہ  کچھ عرصہ کے لئے والدہ کی پرورش و تربیت میں ہو،کیونکہ بچہ رحمت اور شفقت کا محتاج ہوتا ہے،اور وہ سب سے زیادہ والدہ میں پائی جاتی ہے۔لہذا احناف کے ہاں  سات سال تک  ماں بچے کی پرورش کی حقدار ہے،اس کے بعد والد کے حوالہ کیا جائےگا،اور ان سات سالوں کا خرچہ والد ہی برداشت کرےگا۔لیکن اگر  بچے کی ماں واقعتاً   بیمار  ہو،جیساکہ سوال میں مذکور ہے یا وہ تیار نہ ہو،تو پھر بچے کی پرورش کا زیادہ حق دار اس کی نانی ہے اور نانی کی غیر موجودگی میں دادی ،پھر خالہ وغیرہ۔
سنن أبى داود:
 حدثنى عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عبد الله بن عمرو أن امرأة قالت يا رسول الله إن  ابنى هذا كان بطنى له وعاء وثديى له سقاء وحجرى له حواء وإن أباه طلقنى وأراد أن ينتزعه منى فقال لها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « أنت أحق به ما لم تنكحى »
(دارالكتاب العربي: 2/ 251:دارالكتاب العربي)
مصنف ابن أبي شيبة:
 عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب طلق أم عاصم , ثم أتى عليها , وفي حجرها   عاصم , فأراد أن يأخذه منها , فتجاذباه بينهما حتى بكى الغلام , فانطلقا إلى أبي بكر فقال له أبو بكر : يا عمر ، مسحها وحجرها وريحها خير له منك حتى يشب الصبي فيختار.
(فصل في الرجل يطلق إمرأته ولها ولد صغير: 5/ 238)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
وأما عندنا فالولد إذا صار مستغنيا بأن يأكل وحه ويشرب وحده ويلبس وحده قيل ويستنجي   وحده ويتوضأ وحده فالأب أحق به والخصاف قدر الاستغناء بسبع سنين وعليخ الفتوى وكذا في الكافي وغيره.
(باب بلوغ الصغير وحضانته: 10/ 376)
فتح القدير:
( قوله فإن لم تكن ) أي لم تكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل أحد وإن علت .
(باب الولد من أحق به: 9/ 398)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب