نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ آپ کو اللہ پر توکل کرکے عمرے کی نیت سے جانا چاہئے،کیونکہ بیت اللہ کی زیارت نصیب ہونا بڑی خوش نصیبی کی بات ہے،باقی جماعت کی نماز کےلئے کئی صورتیں نکل سکتی ہیں۔مثلا اگر آپ کو یا بیٹی کو اللہ تعالی نے وسعت دی ہے تو گھر سے مسجد اور مسجد سے گھر کےلئے لے جانے کےلئے کرائے کی گاڑی کا انتظام ہوجائے،اور اگر ایسا مشکل ہے تو شخصِ مذکور کو اگر کچھ سورتیں یا د ہوں،تو خود امامت کرائے،اپنے ساتھ گھر کے افراد بھی کھڑے کرسکتے ہیں۔اگر اس صورت میں بھی کوئی مشکل ہو،تو عمرہ کرکے واپس آبھی سکتے ہیں،کیونکہ وہاں زیادہ عرصہ رہنا کوئی ضروری نہیں۔
سنن النسائي :
أخبرنا قتيبة بن سعيد عن مالك عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة.
(فضل العمرة: 5/ 115:المكتبة الشاملة)
صحيح البخاري :
عن نافع عن عبد الله بن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ( صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة )
(باب وجوب صلوة الجماعة: 1/ 231:دارابن كثير)
وفيه ايضا:
قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( صلاة الرجل في الجماعة تضعف على صلاته في بيته وفي سوقه خمسة وعشرين ضعفا وذلك أنه إذا توضأ فأحسن الوضوء ثم خرج إلى المسجد لا يخرجه إلا الصلاة لم يخط خطوة إلا رفعت له بها درجة وحط عنه بها خطيئة فإذا صلى لم تزل الملائكة تصلي عليه ما دام في مصلاه اللهم صل عليه اللهم ارحمه ولا يزال أحدكم في صلاة ما انتظر الصلاة.
(باب وجوب صلوة الجماعة: 1/ 231:دارابن كثير)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔