سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-527 Fatwa no: 1447-527

عمرہ کی ادائیگی کےلئے جماعت کی نماز کا چھوٹ جانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میرا ایک مقتدی ہے،دیندار آدمی ہے،اس کی بیٹی سعودی عرب میں مقیم ہے اپنے خاوند کے ساتھ۔وہ اپنے ابا جی کو سعودی بلانا چاہتی ہے تاکہ ملاقات ہوسکے اور ساتھ ساتھ حاضری کا شرف بھی حاصل ہوگا،اس سفر میں وہ کئی عمرے ادا کرسکتا ہے،شخص مذکور کا یہ کہنا ہے کہ بیٹی کا گھر ایسی جگہ واقع ہے جہاں قرب وجوار میں کوئی مسجد نہیں ،اب اگر میں یہاں سے عمرہ کی ادائیگی کی نیت سے جاؤں گا،لیکن عمرہ کی ادائیگی سے واپس آکر ساری نمازیں میں نے بغیر جماعت کے پڑھنی ہو ں گی ،کیونکہ نہ قرب وجوار میں مسجد ہے اور نہ ہی مجھے بیٹی کے گھر میں کوئی جماعت کےلئے میسر ہے۔اسی طرح تراویح میں بھی یہی مسئلہ ہوگا۔تو اب پوچھنا یہ ہے کہ میرے لئے عمرے کا یہ سفر درست ہوگا یا یہاں رہ کر جماعت کے ساتھ نمازیں پڑھنا ؟
جواب :

بصورتِ مسئولہ آپ کو   اللہ پر توکل کرکے عمرے کی نیت سے جانا چاہئے،کیونکہ بیت اللہ کی زیارت نصیب ہونا بڑی خوش نصیبی کی بات ہے،باقی  جماعت کی نماز کےلئے کئی صورتیں  نکل سکتی ہیں۔مثلا اگر آپ کو یا بیٹی کو اللہ تعالی نے وسعت دی ہے تو  گھر سے مسجد  اور مسجد سے گھر کےلئے لے جانے کےلئے کرائے کی گاڑی کا انتظام ہوجائے،اور اگر ایسا مشکل ہے تو  شخصِ مذکور  کو اگر کچھ سورتیں یا د ہوں،تو خود امامت کرائے،اپنے ساتھ   گھر کے افراد بھی کھڑے کرسکتے ہیں۔اگر اس صورت میں بھی کوئی مشکل ہو،تو عمرہ کرکے واپس آبھی سکتے  ہیں،کیونکہ وہاں  زیادہ عرصہ رہنا کوئی  ضروری نہیں۔
سنن النسائي :
 أخبرنا قتيبة بن سعيد عن مالك عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله   صلى الله عليه و سلم : العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة.
(فضل العمرة: 5/ 115:المكتبة الشاملة)
صحيح البخاري :
 عن نافع عن عبد الله بن عمر  : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ( صلاة الجماعة     تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة )
(باب وجوب صلوة الجماعة: 1/ 231:دارابن كثير)
وفيه ايضا:
قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( صلاة الرجل في الجماعة تضعف على صلاته في  بيته وفي سوقه خمسة وعشرين ضعفا وذلك أنه إذا توضأ فأحسن الوضوء ثم خرج إلى المسجد لا يخرجه إلا الصلاة لم يخط خطوة إلا رفعت له بها درجة وحط عنه بها خطيئة فإذا صلى لم تزل الملائكة تصلي عليه ما دام في مصلاه اللهم صل عليه اللهم ارحمه ولا يزال أحدكم في صلاة ما انتظر الصلاة.
(باب وجوب صلوة الجماعة: 1/ 231:دارابن كثير)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب