نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ اگر شخصِ مذکور کی حالت واقعی یہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے،تو یہ شرعا مکلف نہیں،جس طرح اس سے دیگر فرائض اور واجبات ساقط ہیں ،اسی طرح وہ داڑھی کا بھی مکلف نہیں ہے،لہذا صفائی ستھرائی میں آسانی اور سہولت کی پیش نظر اس کی داڑھی کاٹی جاسکتی ہے۔
قا ل الله تعالى:{لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ} [البقرة: 286]
في تفسير ابن كثير :وقوله: { لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا } أي: لا يكلف أحدًا فوق طاقته، وهذا من لطفه تعالى بخلقه ورأفته بهم وإحسانه إليهم(سورة البقرة: 1/ 737:دارطيبة للنشر)
في درر الحكام شرح مجلة الأحكام : الضرورات تبيح المحظورات الضرورة هي العذر الذي يجوز بسببه إجراء الشيء الممنوع . المباح : والمباح شرعا هو الشيء الذي يجوز تركه وفعله في نظر الشرع والمقصود من المباح هنا ما ليس به مؤاخذة وإن إباحة الضرورة للمحظورات تسمى في علم أصول الفقه رخصة.( المادة 21 : 1/ 33:دارالكتب العلمية بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔