سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-528 Fatwa no: 1447-528

غیر مکلف آدمی کی داڑھی کاٹنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک بھتیجا ہے،وہ بچپن سے معذور ہے،یعنی اس کے جسم کے اعضاء اس کے کنٹرول میں نہیں،اس کے ہاتھ مڑے ہوئے ہیں،سر حرکت کرتا رہتا ہے،وہ اپنی صفائی خود نہیں کرسکتا۔اور دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔ضروری بال وغیرہ بھی گھرکا کوئی اور بندہ کٹواتا ہے۔اب شرعی مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اس کی داڑھی آئی ہے،اور اس سے مسلسل لعاب ٹپکتا رہتا ہے،جس کی وجہ سے داڑھی پر لعاب لگا رہتا ہے۔اب پوچھنا یہ تھا کہ اگر اس کی داڑھی کاٹی جائے،تاکہ صفائی میں بھی آسانی ہو،اور ساتھ ساتھ کسی کو گھن بھی نہ آئے تو اس کا شریعت میں اجازت ہے یا نہیں ۔وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ اگر شخصِ مذکور کی  حالت واقعی یہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے،تو یہ شرعا مکلف نہیں،جس طرح  اس سے دیگر فرائض اور واجبات ساقط ہیں ،اسی طرح  وہ داڑھی کا بھی مکلف نہیں  ہے،لہذا  صفائی ستھرائی  میں آسانی اور سہولت کی پیش نظر  اس کی داڑھی کاٹی جاسکتی ہے۔
قا ل الله تعالى:{لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ} [البقرة: 286]
في تفسير ابن كثير :وقوله: { لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا } أي: لا يكلف أحدًا فوق طاقته، وهذا من لطفه تعالى بخلقه ورأفته بهم وإحسانه إليهم(سورة البقرة: 1/ 737:دارطيبة للنشر)
في درر الحكام شرح مجلة الأحكام : الضرورات تبيح المحظورات  الضرورة هي العذر الذي يجوز بسببه إجراء الشيء الممنوع . المباح : والمباح شرعا هو الشيء الذي يجوز تركه وفعله في نظر الشرع والمقصود من المباح هنا ما ليس به مؤاخذة وإن إباحة الضرورة للمحظورات تسمى في علم أصول الفقه رخصة.( المادة 21 :  1/ 33:دارالكتب العلمية بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب