سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-529 Fatwa no: 1447-529

فوتگی کے لوازمات کےلئے کمیٹی بنانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے اسلام آباد میں رہائش پزیر اپنے قبیلے، قوم محسود کا اتحاد بنادیا ہے،ہرفیملی بطورِ رجسٹریشن مبلغ پندرہ سو روپے جمع کرتےہیں،اس کے بعد ماہوار خاندان کے ہرفرد کی طرف سے بیس روپے ماہوار جمع کرتے ہیں،اس فنڈ میں سے غمزدہ فیملی کےلئے دو وقت کے کھانے کا انتظام کیا جاتاہے،اس کے علاوہ اگر وہ میت کو علاقے لے جانا چاہتا ہے،تو اس کا خرچہ بھی فنڈ سے دیا جاتاہے۔اس باہمی طریقے سے فوتگی کے لوازمات کافی آسان ہوجاتے ہیں،ورنہ اکیلے نمٹانا بہت مشکل ہے۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا سوال میں ذکرکردہ باہمی تعاون کا طریقہ درست ہے یا نہیں ؟ اگر درست نہ ہی تو کسی ایسی صورت کی طرف راہنمائی فرمائیں۔جس سے یہ اتحاد اور اتفا ق برقرار رہے۔
جواب :

واضح رہے کہ  غم کے وقت غمزدہ خاندان کے ساتھ  ہمدردی اور اظہارِ یکجہتی  پر شریعت نے زور دیا ہے،اور آپﷺ نے اس کو اپنے عمل سے کرکے   دکھایا بھی ہے۔لیکن اس ہمدردی  اور اظہارِ یکجہتی  کی بنیاد برادری  نہیں،بلکہ پڑوس ہے،اس لئے پڑوسیوں  کی شرعا ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غم اور تکلیف کے وقت دوسرے پڑوسی کا ساتھ  دیں،فوتگی کے وقت غمزدہ خاندان کےلئے اور ان کے مہمانوں کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کریں۔اسی بھلائی اور خیرخواہی کی وجہ سے ایک اچھا اور ممتاز معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔باقی اگر کسی معاشرے یا محلے میں(خصوصا شہری آبادی میں)  اس کا کوئی انتظا م نہ ہو،تو برادری کی سطح  پر بھی اس کا انتظام کرنا کوئی ممنوع نہیں ،بلکہ مستحسن امر ہے،بشرطیکہ شرعی حدود کا  لحاظ رکھا جائے۔
بصورت مسئولہ  اگر اس کمیٹی میں شامل ہونے والے  آپ کے برادری کے لوگ سب اس بات پر متفق ہوجاتے ہیں،اور وہ اپنی خوشی سے بغیر کسی دباؤ کے  اس معاہدے کو قبول کرتے ہیں،تو پھر یہ باہمی تعاون کی ایک جائز اور اچھی صورت ہے،اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔لیکن عموما  یہ دیکھا جاتاہے کہ اگر کوئی آدمی کسی وجہ سے کمیٹی کا ممبر نہیں بن سکتا،تو کمیٹی میں شریک افراد اس سے لاتعلقی اختیار کرتے ہیں،اور اس  کو بالکل کنارے لگاتے ہیں،بلکہ اس کے ساتھ  ایک  طرح کا بائیکاٹ کیا جاتاہے۔جو کہ شرعا  ناجائز ہے۔اس سے احتراز کیا جائے۔اس کمیٹی کو  مزید مستحکم اوربارآور بنانے کےلئے یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ جو صاحبِ ثروت ہیں ،وہ اپنی مرضی اور چاہت  سے اپنے اوپر  کچھ اضافی رقم کا التزم کریں۔اور اس کے بدلے اگر کمیٹی میں کوئی ایسا ممبر ہو،جو مذکورہ رقم بھی برداشت نہیں کرسکتا ہو،یا برادری  کا کوئی ایسا آدمی جو مالی حالات کی خرابی کی وجہ سے کمیٹی کا ممبر نہ بن سکتا ہو،اس کو بلا عوض کمیٹی کا ممبر بنایا جائے۔


قال الله تعالى:
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}
 (المائدة:2)
السنن الصغرى للبيهقي:
عن جعفر ، عن أبيه ، عن عبد الله بن  جعفر أن النبي [ صلى الله عليه وسلم ] قال : ' اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد أتاهن ما يُشْغِلُهُنَّ  أو أتاهم ما يُشْغِلُهم '
(باب التعزية:ص: 3/ 104:ط:مكتبة الرشد)
السنن الكبرى:
لايحل مال امرئ من اخيه الاما اعطاه من طيب نفس.
 (كتاب الغصب:باب ما لايملك أحد بالجناية:160/6:بيروت   
حاشية ابن عابدين:
قوله ( وباتخاذ طعام لهم ) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم لقوله اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم حسنه الترمذي وصحح الحاكم ولأنه بر ومعروف ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون
     (مطلب في كراهة الضيافة من اهل الميت:ص: 2/ 240:دارالفكر)

 

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب