سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-530 Fatwa no: 1447-530

فوتگی کےلئے کمیٹی بنا کر میت کے ورثاء کو متعین رقم دینا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ہم نے گاؤں میں ایک کمیٹی بنائی ہے جو خاندان کے پچیس افراد پر مشتمل ہے اس کا مقصد جب خاندان میں کوئی فوتگی ہو جائے تو تین دن کھانے کا انتظام کرنا ہے اور ان تین دنوں میں جو خرچہ آ تا ہے وہ کمیٹی کے ان پچیس افراد پر تقسیم کر دینا ہے مسئلہ یہ ہے بعض فوتگی پر خرچہ زیادہ آ تا تھا بعض پر کم ،مطلب کسی فوتگی پر پچاس ہزار خرچہ آ تا تھا بعض پر ستر ہزار اس لئے ہم نے سوچا کہ بعض کمیٹی کے افراد کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ بعض کمیٹی کے افراد کے مہمان کم ہوتے ہیں اور بعض کے زیادہ ،اس لئے ہم نے نوے ہزار کی ایک رقم مختص کر دی کہ کسی کا فوتگی پر کم خرچ ہو یا زیادہ سب کو برابر رقم نوے ہزار ہی ملے گی جو کمیٹی کے افراد پر تقسیم ہو جائے گی برابر ی کے ساتھ ۔ کیا اس میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں اور دوسرا ہم نے فیصلہ کیا کہ اگرایک والد کے چار بیٹے ہیں تو جب تک وہ شادی شدہ نہیں ہو جائے والد ہی کمیٹی کا ممبر رہیں گا مگر جب کوئی بیٹا شادی شدہ ہو جائے گا تو اس کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا جائے گا کیا یہ درست ہے مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ  غم کے وقت غمزدہ خاندان کے ساتھ  ہمدردی اور اظہارِ یکجہتی  پر شریعت نے زور دیا ہے،اور آپﷺ نے اس کو اپنے عمل سے کرکے   دکھایا بھی ہے۔لیکن اس ہمدردی  اور اظہارِ یکجہتی  کی بنیاد برادری  نہیں،بلکہ پڑوس ہے،اس لئے پڑوسیوں  کی شرعا ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غم اور تکلیف کے وقت دوسرے پڑوسی کا ساتھ  دیں،فوتگی کے وقت غمزدہ خاندان کےلئے اور ان کے مہمانوں کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کریں۔اسی بھلائی اور خیرخواہی کی وجہ سے ایک اچھا اور ممتاز معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔باقی اگر کسی معاشرے یا محلے میں(خصوصا شہری آبادی میں)  اس کا کوئی انتظا م نہ ہو،تو برادری کی سطح  پر بھی اس کا انتظام کرنا کوئی ممنوع نہیں ،بلکہ مستحسن امر ہے،بشرطیکہ شرعی حدود کا  لحاظ رکھا جائے۔
بصورت مسئولہ  اگر اس کمیٹی میں شامل ہونے والے  آپ کے برادری کے لوگ سب اس بات پر متفق ہوجاتے ہیں،اور وہ اپنی خوشی سے بغیر کسی دباؤ کے  اس معاہدے کو قبول کرتے ہیں،تو پھر یہ باہمی تعاون کی ایک جائز اور اچھی صورت ہے،اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔لیکن عموما  یہ دیکھا جاتاہے کہ اگر کوئی آدمی کسی وجہ سے کمیٹی کا ممبر نہیں بن سکتا،تو کمیٹی میں شریک افراد اس سے لاتعلقی اختیار کرتے ہیں،اور اس  کو بالکل کنارے لگاتے ہیں،بلکہ اس کے ساتھ  ایک  طرح کا بائیکاٹ کیا جاتاہے۔جو کہ شرعا  ناجائز ہے۔اس سے احتراز کیا جائے۔بلکہ اگر کوئی کسی مجبوری کی وجہ سے کمیٹی کا ممبر نہیں بن سکتا ہے،تب بھی غم کے  موقع پر اس کے ساتھ  رواداری کرنا اور حسب ِ وسعت   ان کا اور ان کے مہمانوں کا اکرام کرنا شرعی  اور اخلاقی ذمہ داری میں داخل ہے۔
اس کمیٹی کو  مزید مستحکم اوربارآور بنانے کےلئے یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ جو صاحبِ ثروت ہیں ،وہ اپنی مرضی اور چاہت  سے اپنے اوپر  کچھ اضافی رقم کا التزم کریں۔اور اس کے بدلے اگر کمیٹی میں کوئی ایسا ممبر ہو،جو مذکورہ رقم بھی برداشت نہیں کرسکتا ہو،یا برادری  کا کوئی ایسا آدمی جو مالی حالات کی خرابی کی وجہ سے کمیٹی کا ممبر نہ بن سکتا ہو،اس کو بلا عوض کمیٹی کا ممبر بنایا جائے۔
باقی جہاں تک تعلق ہے اس فیصلے کا کہ جو بھی  شادی کرےگا،وہ مستقل ایک ممبر شمار ہوگا،ایک انتظامی فیصلہ ہے،اس کے صحیح ہونے کےلئے بھی  کمیٹی میں شریک سارے ممبران  کا اس کو خوشی سے تسلیم کرناضروری ہے۔بصورتِ دیگر درست نہ ہوگا۔
قال الله تعالى:
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}
 (المائدة:2)
السنن الصغرى للبيهقي:
عن جعفر ، عن أبيه ، عن عبد الله بن  جعفر أن النبي [ صلى الله عليه وسلم ] قال : ' اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد أتاهن ما يُشْغِلُهُنَّ  أو أتاهم ما يُشْغِلُهم '
(باب التعزية:ص: 3/ 104:ط:مكتبة الرشد)
السنن الكبرى:
لايحل مال امرئ من اخيه الاما اعطاه من طيب نفس.
 (كتاب الغصب:باب ما لايملك أحد بالجناية:160/6:بيروت   
حاشية ابن عابدين:
قوله ( وباتخاذ طعام لهم ) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم لقوله اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم حسنه الترمذي وصحح الحاكم ولأنه بر ومعروف ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون
     (مطلب في كراهة الضيافة من اهل الميت:ص: 2/ 240:دارالفكر)

 

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب