نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ فیس بک یا یوٹیوب چینل سے جو کمائی ملتی ہے درحقیقت وہ ویڈیو غیرہ پر چلنے والے ایڈز(اشتہارات) کی ہوتی ہے،لہذا اگر وہ اشتہارات خلاف شرع نہ ہوں یعنی نہ تو اس میں حرام اشیاء جیسے شراب وغیرہ کی تشہیر ہو اور نہ ہی وہ بے پردگی اور گمراہی کا باعث ہوں،نیز گانےبجانے اور میوزک پر بھی مشتمل نہ ہوں،تو اس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی حلال ہوگی،لیکن اگر مذکورہ شرائط میں سے کسی بھی شرط کا فقدان ہو،تو اس صورت میں چینل سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال نہیں ہوگی۔باقی جہاں تک اہل علم کے اختلاف کی وجہ ہے وہ یہی ہے کہ جو حضرات یوٹیوب چینل یا فیس بک پیج سے کمائی کے جواز کے قائل ہیں،ان کے نزدیک مذکورہ صورت میں ایسا آپشن موجود ہے،جس کے ذریعے غیر شرعی ایڈز بند کئے جاسکتے ہیں،لہذا حلال یا مباح چیزوں کے اشتہار پر کمانے میں کوئی حرج نہیں،اور جو حضرات احتیاط کے قائل ہیں،ان کے نزدیک غیر شرعی ایڈز بند کرنے کے باوجود مکمل طور پر بند نہیں ہوتے بلکہ وقتا فوقتا آجاتے ہیں۔اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی کمائی سے احتراز کیا جائے۔
باقی احوط یہ ہے کہ چاہے یوٹیوب چینل ہو یا فیس بک پیج، کمائی کا اس طور پر مستقل ذریعہ تو نہ بنایا جائے،کہ اس کے بنانے کا غرض اور مقصد ہی کمائی ہو ،بلکہ کمائی کےلئے شک وشبہ سے پاک کوئی ذریعہ تلاش کیا جائے ۔البتہ اگر دین کے نشرو اشاعت کی پیش نظرچینل وغیرہ بنایا جائے اور پھر مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے اس سے کمائی حاصل ہوجائے،تو اس کی گنجائش ہوگی۔
قال الله تعالى:
{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ }
[المائدة: 2]
صحيح مسلم:
عن النعمان بن بشير قال سمعته يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وأهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه * إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب.
(باب اخذ الحلال وترك الشبهات: (3/ 1219)
الفقه الإسلامي وأدلته:
لا يجوز الاستئجار على المعاصي كاستئجار الإنسان للعب واللهو المحرم وتعليم السحر والشعر المحرم وانتساخ كتب البدع المحرمة، وكاستئجار المغنية والنائحة للغناء والنوح، لأنه استئجار على معصية، والمعصية لا تستحق بالعقد.( 5/ 468:دارالفكر)
فقه البيوع
ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لاتخلو من محظور شرعی ، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة، من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة ، وإن كان هناك من لا يقصد به ذلك . فبما أن استعماله في مباح ممكن ، فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقاً ، إلا إذا تعين بيعه لمحظور ، ولكن نظراً إلى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية . وعلى هذا ، فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة ، إلا إذا هيأ الله سبحانه جواً يتمحض أويكثر فيه استعماله المباح
(1/314:معارف القرأن كراتشي)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔