سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-531 Fatwa no: 1447-531

فیس بک سے حاصل ہونے والے نفع کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
میرا سوال فیس بک سے حاصل ہونے والی آمدنی کے شرعی حکم کے بارے میں ہے۔ اس مسئلے میں ایک ہی فقہی مکتبِ فکر کے اہلِ علم کی دو مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ فیس بک سے ہونے والی کمائی جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کی آمدنی اشتہارات (Ads) کے ذریعے ہوتی ہے، اور ان اشتہارات میں اکثر غیر شرعی اور حرام اشیاء کی تشہیر بھی شامل ہوتی ہے، جیسے شراب، جوا، یا دیگر ناجائز چیزیں۔ اس بنا پر کہا جاتا ہے کہ چونکہ کمائی کا ذریعہ ہی ایسے اشتہارات ہیں جن میں حرام کا عنصر پایا جاتا ہے، اس لیے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز ہوگی، چاہے بعض اوقات جائز اور مباح چیزوں کے اشتہارات بھی آتے ہوں۔ دوسری طرف اسی فقہی مکتبِ فکر کے بعض اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ اگر فیس بک سے آمدنی حاصل ہو جائے اور اس میں غیر شرعی اشتہارات بھی شامل ہوں، تو ایسی صورت میں اس آمدنی کا کچھ حصہ (مثلاً ڈھائی فیصد یا تین فیصد) صدقہ کر دیا جائے، اور باقی رقم کا استعمال جائز ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ایک پوسٹ یا ویڈیو سے پانچ ہزار روپے آمدنی ہو اور اس میں ناجائز اشیاء کے اشتہارات بھی چلیں، تو اگر اس رقم میں سے ایک مخصوص حصہ صدقہ کر دیا جائے تو بقیہ رقم حلال ہو جائے گی۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جب ایک ہی فقہی مکتبِ فکر کے اندر اس مسئلے میں دو مختلف آراء پائی جاتی ہوں، تو شریعت کی روشنی میں کون سا موقف زیادہ راجح اور محتاط ہے؟ نیز ایک عام مسلمان کے لیے اس صورتِ حال میں کس رائے پر عمل کرنا زیادہ درست ہوگا؟
جواب :

بصورت مسئولہ  فیس بک یا یوٹیوب چینل  سے جو کمائی ملتی ہے درحقیقت وہ  ویڈیو غیرہ پر چلنے والے ایڈز(اشتہارات) کی ہوتی ہے،لہذا اگر وہ اشتہارات  خلاف شرع نہ ہوں یعنی  نہ تو اس میں حرام اشیاء جیسے شراب وغیرہ کی تشہیر ہو اور نہ ہی وہ بے پردگی  اور گمراہی کا باعث ہوں،نیز گانےبجانے اور میوزک  پر بھی مشتمل نہ ہوں،تو اس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی حلال ہوگی،لیکن اگر مذکورہ شرائط میں سے کسی بھی شرط کا فقدان ہو،تو اس صورت میں  چینل سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال نہیں ہوگی۔باقی جہاں تک اہل علم کے اختلاف کی وجہ ہے وہ یہی ہے کہ جو حضرات یوٹیوب چینل یا فیس بک پیج سے  کمائی  کے جواز کے قائل ہیں،ان کے نزدیک مذکورہ صورت میں ایسا آپشن موجود ہے،جس کے ذریعے غیر شرعی  ایڈز بند کئے جاسکتے ہیں،لہذا حلال یا مباح چیزوں کے اشتہار پر کمانے میں کوئی حرج نہیں،اور جو حضرات احتیاط کے قائل ہیں،ان کے نزدیک غیر شرعی ایڈز بند کرنے کے باوجود مکمل  طور پر  بند نہیں ہوتے بلکہ وقتا فوقتا آجاتے ہیں۔اس لئے  احتیاط  اسی میں ہے کہ اس کی کمائی سے احتراز کیا جائے۔
باقی   احوط یہ ہے کہ چاہے یوٹیوب چینل  ہو یا فیس بک پیج،  کمائی  کا اس طور پر  مستقل ذریعہ تو نہ بنایا جائے،کہ اس کے بنانے کا غرض  اور مقصد ہی کمائی ہو ،بلکہ کمائی کےلئے  شک وشبہ سے پاک کوئی  ذریعہ تلاش کیا جائے ۔البتہ  اگر دین کے نشرو اشاعت کی پیش نظرچینل وغیرہ  بنایا جائے اور پھر مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے اس سے کمائی  حاصل ہوجائے،تو اس کی گنجائش ہوگی۔
قال الله تعالى:
{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } 
[المائدة: 2]
 صحيح مسلم:
عن النعمان بن بشير قال سمعته يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وأهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه * إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب.
(باب اخذ الحلال وترك الشبهات: (3/ 1219)
الفقه الإسلامي وأدلته:
لا يجوز الاستئجار على المعاصي كاستئجار الإنسان للعب واللهو المحرم وتعليم السحر والشعر المحرم وانتساخ كتب البدع المحرمة، وكاستئجار المغنية والنائحة للغناء والنوح، لأنه استئجار على معصية، والمعصية لا تستحق بالعقد.( 5/ 468:دارالفكر)
فقه البيوع
ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لاتخلو من محظور شرعی ، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة، من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة ، وإن كان هناك من لا يقصد به ذلك . فبما أن استعماله في مباح ممكن ، فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقاً ، إلا إذا تعين بيعه لمحظور ، ولكن نظراً إلى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية . وعلى هذا ، فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة ، إلا إذا هيأ الله سبحانه جواً يتمحض أويكثر فيه استعماله المباح
(1/314:معارف القرأن كراتشي)    

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب