سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-49 Fatwa no: 1447-49

انشورنس کمپنی کے لیے گاہک مہیا کرنے پر کمیشن لینے کی شرعی حیثیت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: امریکہ میں کوئی بھی کام انشورنس کے بغیر نہیں ہوسکتا ،تو ہم یہاں پاکستان سے کسی شخص کو کال کردیتے ہیں ،کہ تمہیں یہ فلاں کام کا انشورنس کرنا ہے یا نہیں اور اس کے فوائد بھی بیان کرتے ہیں ،اگر وہ شخص رضامندی ظاہر کرتا ہے ،تو ہم کسی امریکی انشورنس کمپنی سے رابطہ کرتے ہیں اور وہ کمپنی اس شخص سے رابطہ کرتی ہے اور باقی تمام معاملات وہ کمپنی سنبھالتی ہے،تو اس طرح انشورنس کروانے کیلئے رابطہ کرنا اور اور پھر اس پر کمیشن لینا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ انشورنس کمپنیوں کا موجودہ نظام سود پر چلتا ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں آپ کیلئے انشورنس کمپنی  میں دلالی کے طور پر کام کرنا اور  اس پر کمیشن لینا اعانت علی المعصیت کی وجہ سے جائز نہیں ہے، کیونکہ قرآن کریم میں گناہوں کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔
كما فى التفسير الوسيط للزحيلي:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ. وتعاونوا على البر: وهو كل ما أمر به الشّرع أو نهى عنه، ولا تتعاونوا على الإثم، أي الذنب والمعصية: وهي كل ما منعه الشرع، واتّقوا الله بفعل ما أمركم به واجتناب ما نهاكم عنه، إن الله شديد العقاب لمن عصى وخالف. والبر والتّقوى كما قال قوم: هما لفظان بمعنى واحد، وكرر باختلاف اللفظ تأكيدا ومبالغة، إذ كل برّ تقوى، وكل تقوى برّ.
(سورة المائدة،آيت2،ج1،ص427،ط:دارالفكر)
وفى الصحيح المسلم:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ».
(بَابُ لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْكِلِهِ،ج3،ص1219،ط: دار إحياء التراث العربي)
وفي فقه البيوع:
أما شركات التأمين التقليدية التي تعمل على أساس الربا والغررفهي على قسمين.......وأما قبول الوظيفة فيها ،فحكمه وحكم التعامل مع الموظفين فيها مثل حكم الوظائف فى البنوك الربوية.
(التعامل مع شركات التأمين،ج2،ص1033،ط:معارف القرآن)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب