سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-532 Fatwa no: 1447-532

قاتل کی فوت ہوجانے کی صورت میں اس کا بھائی یا بیٹا قتل کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی آدمی کسی کو قتل کرے،اس قتل میں قاتل کے ساتھ خاندان میں سے کوئی شریک نہ ہو،پھر کچھ عرصہ بعد قاتل کا انتقال ہوجائے۔تو کیا ایسی صورت میں اولیائے مقتول کے لئے یہ بات جائز ہے کہ انتقام لینے کی غرض سے قاتل کا بھائی یا اس کا سگا بھائی قتل کردے۔اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو کیا مقتول ثانی کے ورثاء کو قصاص کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب :

سوال کے جواب سے پہلے یہ بات واضح ہونی چاہئےکہ ناحق کسی کو قتل کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں اس پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں۔چنانچہ آیتِ مبارکہ کا مفہوم ہے"اور جو شخص کسی  مسلمان کو  جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ  ہمیشہ رہے گا،اور اس پر غضب نازل کرے گا اورلعنت بھیجےگا،اوراللہ نے اس کےلئے زبردست عذاب  تیارکررکھاہے"اس آیت کے مفہوم کو سامنے رکھ کر اندازہ کرنا چاہئے کہ بلاوجہ کسی کی جان لینا کس قدر سنگین جرم ہے
باقی اصل مسئلے کا جواب یہ ہے  کہ  مقتول کے اولیاء کو  اللہ تعالی نے تین اختیارات دئے ہیں۔وہ چاہیں،تو معاف کریں،یا صلح کرکے مال لے لیں،اور یا قصاصا قاتل کو قتل کردیں۔لیکن قاتل کے مرجانے کے بعد قصاص ساقط ہوجاتاہے،اس لئے پھر ان کو قاتل کے اولیاء میں سے کسی کو قتل کرکے انتقام لینا شرعا ناجائز اور حرام  ہے۔اور یہ اتنا ہی بڑا جرم ہے ،جتنا کہ قاتل اول  نے کیا تھا۔اور اس کی سزا بھی وہی ہے جو اوپر تمہید میں گزری  ہے۔اس لئے اولیاء  مقتول کو اس فعل سے احتراز ضروری ہے۔
قا ل الله تعالى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} [النساء: 93]
وقال  ايضا: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ (178) وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (179)
في بدائع الصنائع :فصل وأما بيان ما يسقط القصاص بعد وجوبه  فالمسقط له أنواع منها فوات محل القصاص بأن مات من عليه القصاص بآفة سماوية لأنه لا يتصور بقاء الشيء في غير محله(بيان ما يسقط القصاص: 7/ 246:دارالكتاب العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب