سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-533 Fatwa no: 1447-533

قرض دے کر اپنے ہی اڈے پر بھوسہ لانے کی شرط لگانے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کا بھوسے کا اڈہ ہے،اس کا کہنا یہ ہے کہ ٹرک ڈرائیور بھوسہ لا کر ہمیں دیدیتا ہے،ہم اس کو فروخت کرکے اپنا کمیشن وصول کر کے باقی ماندہ رقم ڈرائیور کو دیتے ہیں،بعض دفعہ ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے ہیں،کبھی بھوسہ خریدنے کےلئے اورکبھی تیل ڈالنے کےلئے وغیرہ۔تو وہ ہم سے کہتا ہے کہ آپ مجھے قرض رقم دیں،ہم قرض رقم دیدیتے ہیں لیکن ساتھ یہ شرط لگاتے ہیں کہ بھوسہ ہمارے ہی اڈے میں لائیں گے،وہ مان لیتا ہے ۔ہم پیسے دیدیتے ہیں اور وہ بھوسہ لاکر ہمیں دیدیتا ہے ،ہم اس کو فروخت کرکے اپنا قرض اور کمیشن وصول کرکے باقی ماندہ رقم ڈرائیور کو حوالہ کرتے ہیں۔اب یہ صورت جائز ہے یا نہیں ۔وضاحت فرمائیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ کسی کو قرض دے کر اس  کے عوض  اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا سود کے زمرے میں آتا ہے،آپ ﷺ کا حدیث گرامی کا مفہوم  ہے کہ ہر وہ قرض جس کے ذریعے  نفع لائے جائے سود ہے۔
بصورتِ مسئولہ شخصِ مذکور کا ٹرک ڈرائیور کو قرض دے کر اس بات کا پابند بنانا کہ بھوسہ میرے اڈے ہی پر لانا ہوگا،اپنے قرض سے فائدہ اٹھانا ہے  جو کہ سود  کے زمرے میں آتا ہے،لہذا اس سے احتراز ضروری ہے۔باقی عقد کے اندر یہ شرط لگائے بغیر ٹرک ڈرائیورکو چاہئے کہ  قرض خواہ کا احسان سمجھتے ہوئے بھوسہ اس ہی کے اڈے میں  اتارے،لیکن اگر اس نے ایسا نہیں کیا  بلکہ کسی اور اڈے میں اتارا،تو قرض خواہ  کو شکایت  یا اعتراض کا حق نہیں ہوگا۔
السنن الكبرى للبيهقي:
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ وَجْهٌ مِنْ وُجُوهِ الرِّبَا.
(باب في كل قرض... 5/ 573:دارالكتب العلمية)
الفتاوى الهندية:
قال محمد رحمه الله تعالى في كتاب الصرف إن أبا حنيفة رحمه الله تعالى كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به وكذلك إذا أقرض رجلا دراهم أو دنانير ليشتري المستقرض من المقرض متاعا بثمن غال فهو مكروه وإن لم يكن شراء المتاع مشروطا في القرض ولكن المستقرض اشترى من المقرض بعد القرض بثمن غال فعلى قول الكرخي لا بأس به وذكر الخصاف في كتابه وقال ما أحب له ذلك وذكر شمس الأئمة الحلواني أنه حرام
(فصل في القرص والاستقراض: 3/ 202:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب