نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ کسی کو قرض دے کر اس کے عوض اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا سود کے زمرے میں آتا ہے،آپ ﷺ کا حدیث گرامی کا مفہوم ہے کہ ہر وہ قرض جس کے ذریعے نفع لائے جائے سود ہے۔
بصورتِ مسئولہ شخصِ مذکور کا ٹرک ڈرائیور کو قرض دے کر اس بات کا پابند بنانا کہ بھوسہ میرے اڈے ہی پر لانا ہوگا،اپنے قرض سے فائدہ اٹھانا ہے جو کہ سود کے زمرے میں آتا ہے،لہذا اس سے احتراز ضروری ہے۔باقی عقد کے اندر یہ شرط لگائے بغیر ٹرک ڈرائیورکو چاہئے کہ قرض خواہ کا احسان سمجھتے ہوئے بھوسہ اس ہی کے اڈے میں اتارے،لیکن اگر اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ کسی اور اڈے میں اتارا،تو قرض خواہ کو شکایت یا اعتراض کا حق نہیں ہوگا۔
السنن الكبرى للبيهقي:
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ وَجْهٌ مِنْ وُجُوهِ الرِّبَا.
(باب في كل قرض... 5/ 573:دارالكتب العلمية)
الفتاوى الهندية:
قال محمد رحمه الله تعالى في كتاب الصرف إن أبا حنيفة رحمه الله تعالى كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به وكذلك إذا أقرض رجلا دراهم أو دنانير ليشتري المستقرض من المقرض متاعا بثمن غال فهو مكروه وإن لم يكن شراء المتاع مشروطا في القرض ولكن المستقرض اشترى من المقرض بعد القرض بثمن غال فعلى قول الكرخي لا بأس به وذكر الخصاف في كتابه وقال ما أحب له ذلك وذكر شمس الأئمة الحلواني أنه حرام
(فصل في القرص والاستقراض: 3/ 202:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔