سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-534 Fatwa no: 1447-534

قسطوں پر خریدے گئے فلیٹ کو واپس کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
مفتیان کرام ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے ایک شخص بلڈر ہے وہ فلیٹ بنا کر فروخت کرتا ہے لوگ قسطوں میں قیمت کی ادائیگی کے ساتھ خرید لیتے ہیں۔ بعض اوقات کسی ضرورت کی بنا پر خریدار اس معاملے کو فسخ کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلیٹ واپس لے لیں اور ہمارے پیسے واپس کر دیں لیکن فروخت کنندہ نے جو کمیشن ڈیلر کو دیا ہوتا ہے اب وہ واپس نہیں مل سکتا لہذا اس کمیشن کو کاٹ کر وہ خریدار کو قیمت واپس کر سکتا ہے۔؟ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بسا اوقات قیمت کم بھی ہو جاتی ہے تو اس صورت کے اندر کتنی قیمت پر فلیٹ کو واپس لیا جا سکتا ہے؟ برائے مہربانی واضح جواب عنایت فرمائیں شکریہ
جواب :

واضح رہے کہ جب بیع کا معاملہ ایک مرتبہ مکمل ہوجائے تو پھر یک طرفہ طور پر اس کو فسخ نہیں کیا جاسکتا،بلکہ دوسری طرف کی رضامندی بھی ضروری ہوتی ہے۔
بصورتِ مسئولہ   خریدار یک طرفہ طور پر عقدِ مذکور  تو ختم نہیں کرسکتا،تاہم اگر اس کی ضرورت اور مجبوری کو سامنے رکھ کر بلڈر اس  معاملہ کو ختم کرنے پر راضی ہوجائے تو اس کو اس کا اجر ملے گا لیکن اس صورت میں  ضروری ہے کہ معاملہ ثمنِ اول  ہی پر فسخ ہو،البتہ بلڈر نے ڈیلر کو جو کمیشن دیا ہے  اس کا  خریدار سے وصولیابی  کےلئے اقالے میں  شرط تو  نہیں لگاسکتا لیکن چونکہ اس نقصان کا سبب خریدار بن رہا ہے ،اس لئے  خریدار کو چاہئے کہ وہ فروخت کنندہ کے حوالے کردے۔باقی اقالے کی صورت میں  مبیع  کے ریٹ میں کمی   کی وجہ سے بلڈر کےلئے اضافی رقم کا مطالبہ جائز نہ ہوگا،جبکہ ریٹ  میں زیادتی کی صورت میں وہ  مشتری کو اضافی رقم دینے کا پابند نہیں۔
 سنن ابن ماجه:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أقال مسلما، أقاله الله عثرته يوم القيامة
(2/ 741/باب الإقالة/ دار إحياء الكتب العربية)
بدائع الصنائع:
وَثَمَرَةُ هذا الِاخْتِلَافِ إذَا تَقَايَلَا ولم يُسَمِّيَا الثَّمَنَ الْأَوَّلَ أو سَمَّيَا زِيَادَةً على الثَّمَنِ الْأَوَّلِ أو أَنْقَصَ من الثَّمَنِ الْأَوَّلِ أو سَمَّيَا جِنْسًا آخَرَ سِوَى الْجِنْسِ الْأَوَّلِ قَلَّ أو كَثُرَ أو أَجَّلَا الثَّمَنَ الْأَوَّلَ فَالْإِقَالَةُ على الثَّمَنِ الْأَوَّلِ في قَوْلِ أبي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَتَسْمِيَةُ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ وَالْأَجَلِ وَالْجِنْسِ الْآخَرِ بَاطِلَةٌ سَوَاءٌ كانت الْإِقَالَةُ قبل الْقَبْضِ أو بَعْدَهَا وَالْمَبِيعُ مَنْقُولٌ أو غَيْرُ مَنْقُولٍ لِأَنَّهَا فَسْخٌ في حَقِّ الْعَاقِدَيْنِ وَالْفَسْخُ رَفْعُ الْعَقْدِ وَالْعَقْدُ وقع بالثمن الْأَوَّلَ فَيَكُونُ فَسْخُهُ بِالثَّمَنِ الْأَوَّلِ ضَرُورَةً لِأَنَّهُ فَسَخَ ذلك الْعَقْدَ وَحُكْمُ الْفَسْخِ لَا يَخْتَلِفُ بين ما قبل الْقَبْضِ وَبَيْنَ ما بَعْدَهُ وَبَيْنَ الْمَنْقُولِ وَغَيْرِ الْمَنْقُولِ وَتَبْطُلُ تَسْمِيَةُ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ وَالْجِنْسُ الْآخَرُ وَالْأَجَلُ وَتَبْقَى الْإِقَالَةُ صَحِيحَةً لِأَنَّ إطْلَاقَ تَسْمِيَةِ هذه الْأَشْيَاءِ لَا يُؤَثِّرُ في الْإِقَالَةِ لِأَنَّ الْإِقَالَةَ لَا تُبْطِلُهَا الشُّرُوطُ الْفَاسِدَةُ
(فصل في بيان ما يرفع حكم البيع:5/306:دارالكتاب العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب