نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جب بیع کا معاملہ ایک مرتبہ مکمل ہوجائے تو پھر یک طرفہ طور پر اس کو فسخ نہیں کیا جاسکتا،بلکہ دوسری طرف کی رضامندی بھی ضروری ہوتی ہے۔
بصورتِ مسئولہ خریدار یک طرفہ طور پر عقدِ مذکور تو ختم نہیں کرسکتا،تاہم اگر اس کی ضرورت اور مجبوری کو سامنے رکھ کر بلڈر اس معاملہ کو ختم کرنے پر راضی ہوجائے تو اس کو اس کا اجر ملے گا لیکن اس صورت میں ضروری ہے کہ معاملہ ثمنِ اول ہی پر فسخ ہو،البتہ بلڈر نے ڈیلر کو جو کمیشن دیا ہے اس کا خریدار سے وصولیابی کےلئے اقالے میں شرط تو نہیں لگاسکتا لیکن چونکہ اس نقصان کا سبب خریدار بن رہا ہے ،اس لئے خریدار کو چاہئے کہ وہ فروخت کنندہ کے حوالے کردے۔باقی اقالے کی صورت میں مبیع کے ریٹ میں کمی کی وجہ سے بلڈر کےلئے اضافی رقم کا مطالبہ جائز نہ ہوگا،جبکہ ریٹ میں زیادتی کی صورت میں وہ مشتری کو اضافی رقم دینے کا پابند نہیں۔
سنن ابن ماجه:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أقال مسلما، أقاله الله عثرته يوم القيامة
(2/ 741/باب الإقالة/ دار إحياء الكتب العربية)
بدائع الصنائع:
وَثَمَرَةُ هذا الِاخْتِلَافِ إذَا تَقَايَلَا ولم يُسَمِّيَا الثَّمَنَ الْأَوَّلَ أو سَمَّيَا زِيَادَةً على الثَّمَنِ الْأَوَّلِ أو أَنْقَصَ من الثَّمَنِ الْأَوَّلِ أو سَمَّيَا جِنْسًا آخَرَ سِوَى الْجِنْسِ الْأَوَّلِ قَلَّ أو كَثُرَ أو أَجَّلَا الثَّمَنَ الْأَوَّلَ فَالْإِقَالَةُ على الثَّمَنِ الْأَوَّلِ في قَوْلِ أبي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَتَسْمِيَةُ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ وَالْأَجَلِ وَالْجِنْسِ الْآخَرِ بَاطِلَةٌ سَوَاءٌ كانت الْإِقَالَةُ قبل الْقَبْضِ أو بَعْدَهَا وَالْمَبِيعُ مَنْقُولٌ أو غَيْرُ مَنْقُولٍ لِأَنَّهَا فَسْخٌ في حَقِّ الْعَاقِدَيْنِ وَالْفَسْخُ رَفْعُ الْعَقْدِ وَالْعَقْدُ وقع بالثمن الْأَوَّلَ فَيَكُونُ فَسْخُهُ بِالثَّمَنِ الْأَوَّلِ ضَرُورَةً لِأَنَّهُ فَسَخَ ذلك الْعَقْدَ وَحُكْمُ الْفَسْخِ لَا يَخْتَلِفُ بين ما قبل الْقَبْضِ وَبَيْنَ ما بَعْدَهُ وَبَيْنَ الْمَنْقُولِ وَغَيْرِ الْمَنْقُولِ وَتَبْطُلُ تَسْمِيَةُ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ وَالْجِنْسُ الْآخَرُ وَالْأَجَلُ وَتَبْقَى الْإِقَالَةُ صَحِيحَةً لِأَنَّ إطْلَاقَ تَسْمِيَةِ هذه الْأَشْيَاءِ لَا يُؤَثِّرُ في الْإِقَالَةِ لِأَنَّ الْإِقَالَةَ لَا تُبْطِلُهَا الشُّرُوطُ الْفَاسِدَةُ
(فصل في بيان ما يرفع حكم البيع:5/306:دارالكتاب العربي)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔