سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-535 Fatwa no: 1447-535

ہوٹل مالک کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرکے کھانا کھانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی آدمی ایسا گیم کھیلتا ہو،جو حرام ہو،مثلا جوے وغیرہ کا ،اور اس گیم کی وجہ سے اس کے اکاؤنٹ میں کچھ رقم آجائے،پھر وہ ہوٹل میں اس سے کھانا کھائے اور کھانا کھانے کے بعد مالک کے اکاؤنٹ میں وہی رقم ٹرانسفر کردے۔اس گیم کھیلنے والے کا ایک دوست ہے،اس نے یہ سارا معاملہ دیکھا،اور پھر ہوٹل والے کو بتایا کہ آپ کو جو رقم منتقل کی گئی ہے،یہ محض حرام ہے۔تو کیا اب ہوٹل والے کےلئے اس کا لینا اور اس سے استفادہ اٹھانا شرعا جائز ہے یا نہیں؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ   "جوا" کھیلنا  شرعا حرام اور ناجائز ہے،اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی  حرام ہے،اس لئےسائل کو چاہئے کہ اپنے دوست کو"جوے" کی حرمت  کے بارے میں بتا کر اس کو اس  قبیح  کام سے منع کرے،سمجھانے پر  منع ہوجائے تو فبہا ۔بصورتِ دیگر خود اس سے دور رہنے کی کوشش کرے۔نیز جس آدمی کی مکمل آمدنی حرام کی ہو،تو اس کے ساتھ خرید وفروخت کے  معاملات بھی جائز نہیں۔
 بصورتِ مسئولہ آگر شخصِ مذکور کے دوست کے اکاونٹ میں صر ف یہی"  جوے"والی رقم  تھی،اس کے علاوہ کوئی اور حلال کمائی موجود  نہیں تھی،اور شخص مذکور کے دوست نے وہی حرام کمائی ہی  ہوٹل والے کے اکاونٹ میں بھیجی ہے،تو اس صورت میں ہوٹل والے کےلئے اس کا استعمال جائز نہیں،خصوصا جب اس کو اس رقم کے حرام ہونے کا علم ہوگیا ہے۔پھر اگر  "جوا"کھیلنے والا معروف آدمی ہے،تو اس کو رقم واپس کردی جائے،اور کسی کا حوالہ  لے کراس سے رقم وصول کی جائے،تو یہ رقم حلال ہوگی،اور اگر وہ کوئی اجنبی آدمی ہے یا رقم اتنی زیادہ نہیں  ہے،تو پھر اپنی طر ف سے اس رقم کوصدقہ کرے،ان شاءاللہ تعالی  ،اس کو اس صدقے کا بدلہ ملے گا،اور آئندہ کےلئے ایسے شخص کے ساتھ  معاملات کرنے سے محتاط رہے۔
قال الله تعالى:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ }
      [المائدة: 90، 91]
سنن أبى داود:
عن ابن عباس قال رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جالسا عند الركن - قال - فرفع بصره إلى السماء فضحك فقال « لعن الله اليهود ». ثلاثا « إن الله حرم عليهم الشحوم فباعوها وأكلوا أثمانها وإن الله إذا حرم على قوم أكل شىء حرم عليهم ثمنه.
(باب في ثمن الخمر والميتة: 3/ 298:دارالكتاب العربي)
حاشية ابن عابدين:
قوله ( لأنه يصير قمارا ) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص
     (فرع: 6/ 403:ط:دارالفكر)
وفي فقه البيوع:
القسم الاول ما كان محرما على المرأ لكونه ملكا للغير،وهو مثل المال المغصوب الذي هومقبوض بيدالغاصب،متميز عن املاكه الاخرى،وفي حكمه ما قبضه باي نوع من البيوع الباطلة...وانه حرام للغاصب الانتفاع به،أوالتصرف فيه،فيجب عليه ان يرده الى مالكه،أو الى وارثه بعدوفاته،وان لم يمكن ذلك لعدم معرفة المالك اووارثه،اولتعذرالرد عليه لسبب من الاسباب،وجب عليه التخلص منه بتصدقه عنه من غيرنية ثواب الصدقة لنفسه.
(1005/1006:ط:معارف القرآن)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب