سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-536 Fatwa no: 1447-536

کسی کا سودی قرض لینے میں معاونت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک سرکاری ملازم ہوں،مجھے سود پر قرض لینے میں آسانی ہوتی ہے۔میرے ایک دوست کو پتا چلاہے،وہ مسلسل اصرار کررہا ہے،کہ میں اس کے لئے اپنے نام پر بینک سے سودی قرض نکال کر دوں۔میں نے معذرت کی ،کہ سود لینا گناہ ہے،اور یہ کام مجھ سے نہیں ہوسکے گا،لیکن اس کا اصرار بڑھ رہا ہے کہ نہیں آپ نے یہ کام کرنا ہے،اور باقی چونکہ دراصل قرض ،سود سمیت تو میں نے ہی واپس کرنا ہے،تو گناہ بھی میرے ہی ذمہ ہوگا۔آپ کے ذمہ نہیں۔اب میں خود تشویش میں ہوں،کہ میں اس کےلئے سودی قرض لے لوں،یانہیں؟ برائے کرام راہنمائی فرمائیں۔
جواب :

شریعت میں جس طرح گناہ کا کام کرنا مذموم اور ناجائز ہے ایسے ہی گناہ کے کام میں معاونت کرنا بھی جائز نہیں۔
بصورت مسئولہ آپ  اپنے دوست کےلئے سودی قرض نکالنے  سے گریز کریں، بصورت دیگر آپ بھی اس گناہ  میں شریک ہوں گے۔
باقی آپ  اپنے دوست کو  سمجھائیں کہ سودی  لین دین چونکہ حرام ہے،اس لئے اس سے بچا جائے۔سودی لین دین والا نہ صرف یہ کے آخرت میں  برباد ہوتا ہے بلکہ دنیا میں بھی وہ نقد سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔اور دنیا کی دیگر سزاؤں میں سے ایک بڑی  سزا یہ ہے کہ پھرکوشش کے باوجود  اس سودی لعنت سے  نکل نہیں پاتا۔
نوٹ: اگر آپ کا دوست  واقعتا مشکل میں ہے،تو آپ بذات خود بھی اور دیگر دوست و احباب  کو  بھی متحرک کریں،اور اس کے لئے قرض ِ حسنہ کی ترتیب بنائے،اللہ تعالی  آپ سے خوش ہوگا اور اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
قال الله تعالى:الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (275) يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (276) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (277) يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (279) وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (280) وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (281)
وقال ايضا: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ(سورة المائدة:2)
في سنن أبى داود :حدثنى عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود عن أبيه قال لعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- آكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه.(باب في أكل الربا و موكله: 3/ 249:دارالكتاب العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب