سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-537 Fatwa no: 1447-537

کفریہ عقائد رکھنے والے شخص کے ساتھ معاملات رکھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ:ایک شخص کے مندرجہ ذیل عقائد ہیں: 1۔احادیث نبوی سے انکاری ہو ،ا س وجہ سے کہ اس کے صحیح ہونے کا امکان ہی نہیں ہے ،جو آحادیث قرآنی آیات کے مشابہہ ہوں وہ ٹھیک ہیں اور باقی نہیں مانتا ہے ۔ 2۔الصلاۃ سے مراد نماز نہیں مانتا بلکہ الصلاۃ سے الفلاح اور نیکی کا کام مراد لیتا ہے ۔ 3۔روزے کے بارے میں کہتا ہے کہ صرف اور صرف اپنے آپ کو اذیت میں ڈالنا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے ۔ 4۔حج کو بھی نہیں مانتا ہےوجہ یہ بتاتا ہے کہ اس پیسوں کا زیادہ تر حصہ یہود کو جاتا ہے ۔ 5۔اور اگر کوئی بندہ سخت بیمار ہوجاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ اللہ تعالی نے نہیں کیا بلکہ جسم جس سسٹم کے تحت کام کرتا ہے اس میں خرابی آگئی ہے ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ معاملات کا کیا حکم ہے ؟
جواب :

بصورتِ مسئولہ چونکہ شخص مذکور دین کےان  بنیادی اور اہم ارکان کا  منکر ہے جو قطعی نصوص اور تواتر سے ثابت ہیں،اس لئے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔لہذا خود بھی اس کے شر سے بچنا چاہئے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس کے کفریہ عقائد سے  محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے۔
باقی جہاں تک بات   ہے،اس کے ساتھ تعلقات رکھنےکی،اگر اس بات کی امید ہے کہ سمجھانے سے   وہ سمجھ جائے گا اور سدھر جائے گا،تو پھر نرمی کے ساتھ اور  شرعی دلائل کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی جائے،لیکن اگر اس کے سدھر جانے کی توقع نہ ہو تو پھر  اس سے  دور رہنے میں ہی خیر ہے،اس سے خود بھی دور رہے اور دوسرے لوگوں  کو  بھی اس کے کفریہ عقائد آگاہ کرکے دور رکھنے کی کوشش کی جائے۔
في البحر الرائق : والكفر لغة الستر وشرعا تكذيب محمد في شيء مما يثبت عنه ادعاؤه ضرورة(باب احكام المرتدين:5/125:دارالمعرفة)
في العقيدة الطحاوية :والحج والجهاد ماضيان مع أولي الأمر من المسلمين برهم وفاجرهم إلى قيام الساعة لا يبطلهما شيء ولا ينقضهما(ص: 49)
في الشفا بتعريف حقوق المصطفى : وكذلك أجمع المسلمون على تكفير كل من استحل القتل أو شرب الخمر أو الزنا مما حرم الله بعد علمه بتحريمه كأصحاب الإباحة من القرامطة وبعض غلاة المتصوفة وكذلك نقطع بتكفير كل من كذب وأنكر قاعدة من قواعد الشرع وما عرف يقينا بالنقل المتواتر من فعل الرسول ووقع الإجماع المتصل عليه كمن أنكر وجوب الصلوات الخمس وعدد ركعاتها وسجداتها ويقول إنما أوجب الله علينا في كتابه الصلاة على الجملة وكونها خمسا وعلى هذه الصفات والشروط لا أعلمه إذ لم يرد فيه في القرآن نص جلى والخبر به عن الرسول صلى الله عليه وسلم خبر واحد(فصل في بيان ما هو من مقالات الكفر: 2/ 287:ط:دارالفكر-بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب