سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-538 Fatwa no: 1447-538

مسینجر کے ذریعے بیوی کو مذاق میں تین طلاق بھیجنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے مسینجر کے ذریعے بیوی کے ساتھ گفتگو کی،گفتگو کے دوران شخص ِ مذکور نے اپنی بیوی کو ایک کاغذ کی تصویر بھیج دی،اس کاغذ پر اس طرح کا ایک مضمون لکھا ہوا تھا"میں اپنے ہوش حواس میں فلاں(شوہر کا نام) آپ کو طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں"بعد میں شخصِ مذکور کہتا ہے کہ میرا اس سے کوئی طلاق کا ارادہ نہیں تھا،میں نے یہ صرف مذاق کےلئے بھیجا تھا۔اب مذکورہ صورت میں کیا طلاق واقع ہوگئی ہے کہ نہیں ؟ اور اگر واقع ہوگئی ہے تو کتنی طلاقیں؟ وضاحت فرمائیں
جواب :

واضح رہے،کہ جو آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے،چاہے ایک ساتھ دے،یاالگ الگ کرکے دے،لکھ کر کےدے، یا زبانی دے،ایک مجلس میں دے،یامختلف مجالس  میں دے،سنجیدگی میں دے یا مذاق میں دے،ہر صورت میں اس پر تینوں طلاقیں واقع  ہوجائینگی،یہ مسئلہ قرآن،حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔
بصورت مسئولہ جب  شخص ِ مذکور نے اپنے نام کے ساتھ کاغذ پر   تین مرتبہ  لکھا ہوا "میں آپ کو طلا ق دیتا ہوں" اپنی بیوی کوبھیجا، تواس سے اس کی بیوی پر  تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں،اوروہ شوہر  پر  ہمیشہ کےلئے حرام ہوگئی ۔اب وہ دوبارہ  شوہر کے نکاح میں نہیں آسکتی ،سوائے اس کے کہ عدت گزرجانے کے بعد مذکورہ خاتون کسی دوسری جگہ  نکاح کرے،میاں بیوی کے درمیان حقوقِ زوجیت ادا ہوجائے،اس کے بعد  یہ دوسرا شوہر فوت ہوجائے یا بیوی کو طلا ق دیدے،تو اس صورت میں عدت گزرجانے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے ساتھ  نکاح کرنا چاہتی ہے،تو کرسکتی ہے بصورتِ دیگر نہیں۔

قال الله تعالى:
"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ....الآية (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ                      (البقرة،229،230) 
سنن ابي داود:
عن ابن شهاب عن سهل بن سعد فى هذا الخبر قال فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأنفذه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وكان ما صنع عند النبى -صلى الله عليه وسلم- سنة.قال سهل حضرت هذا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فمضت السنة بعد فى المتلاعنين أن يفرق بينهما ثم لا يجتمعان أبدا.(:كتاب اللعان 2/ 242:دارالكتاب العربي)
سنن أبى داود:
عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق     والرجعة
(باب الطلاق على الهزل:2/255:دارالكتاب العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب