سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-539 Fatwa no: 1447-539

معاہدے پر عمل درآمد کرانے کےلئے حلفا طلاقا ضامن بننا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا حکم ہے شریعتِ محمدی ﷺ بابتِ بذیل:- فریقِ اول: (فریقِ سوئم کے دیور اور بھتیجے، اور سگے چچا اور چچا زاد بھائی) فریقِ دوئم: (فریقِ سوئم کے سگے بھائی اور ماموں اور 15 سال سے مفت بلا معاوضہ کفیل) فریقِ سوئم: (بیوہ والدہ اور دو یتیم بیٹیاں) مندرجہ بالا تینوں فریق وراثت، میراث اور دو یتیم بچیوں کے رشتوں کے حصول پر کئی دفعہ لڑائی جھگڑے اور مقامی سطح پر شریعت جرگہ منعقد ہوتا رہا۔ آخری بار کے جھگڑے میں فریقِ اول کا ایک شخص (فریقِ سوئم کا دیور/چچا) زخمی ہوا۔ مابعد ثالثی برادری کے تحت ایک معاہدہ عمل میں آیا۔ یہ کہ معاہدہ کل 16 شقوں پر مبنی ہے اور اس معاہدہ کے تحت وراثت کی تقسیم وراثت کی معافی یا دست برداری، میراث کا حصول یا دست برداری لڑائی جھگڑا کے بابت معافی یا جرم ازالہ کے علاوہ دو یتیم بچیوں کی رہائش اور شادیاں بھی شامل ہیں۔ اس معاہدہ کے ابتدائیہ میں/تمہید میں فریقِ دوئم فریقِ سوئم کی تینوں خواتین کا حلفاً طلاقاً ضامن ہے کہ فریقِ سوئم معاہدہ پر عمل درآمد کرے گا اس معاہدہ کی شق نمبر 02 جو دو حصوں پر مشتمل ہے۔ شق:- یہ کہ صلاح الدین (مرحوم) کی یتیم بچیاں اپنی مرضی/رضامندی سے شادی کریں گی۔ تاہم رشتے فائنل کرتے وقت ڈاکٹر عبدالمنان و ماسٹر گل فیروز موجود رہیں گے اور مذکورین لازمی رشتہ دار بزرگوں کو شاملِ فیصلہ رکھیں گے۔ یہ شق 02 حصوں پر مشتمل ہے ایک حصہ دونوں یتیم بچیوں کو تابعِ قانون، مطابقِ شریعت آزادانہ شادیاں کرنے کے حق پر مشتمل ہے۔ جبکہ دوسرا حصہ جس میں تینوں فریقین نے دو ثالث مقرر کر رکھے ہیں کہ ان یتیم بچیوں کے رشتے طے ہوتے وقت لازمی رشتہ دار بزرگوں کو شاملِ فیصلہ رکھیں گے۔ اب فریقِ سوئم کی دو یتیم بچیوں میں سے ایک نے کوئی رشتہ قبول کر لیا اور نکاح کر لیا تاہم رخصتی پذیر ہونا باقی ہے۔ جبکہ ثالثین نے فریقِ اول کے اہم ترین شخص اور فریقِ دوئم کے اہم ترین شخص سے اس بابت پوچھا فریقِ اول کے اہم ترین شخص حقیقی چچا نے گواہان کی موجودگی میں عدم دلچسپی، لاتعلقی اور بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے شاملِ فیصلہ ہونے سے انکار کیا جبکہ فریقِ دوئم کے اہم ترین شخص حقیقی ماموں اور بلا معاوضہ کفیل عرصہ 15 سال نے بچیوں کو آزادانہ اور مختارانہ فیصلے کا حق دیا اپنی رائے ٹھونسنے سے صریحاً اجتناب کیا۔ ان حالات میں ثالثین نے بچی کو منگنی نکاح کی اجازت دی اور اس نے کر لی۔ اب فریقِ اول اور کچھ غیر ضروری، غیر متعلقہ لوگوں نے اسے معاہدہ کی خلاف ورزی قرار دے کر فریقِ دوئم پر حلف اور طلاق واقع ہونے کا شور شرابہ کھڑا کر دیا۔ جبکہ فریقِ سوئم کی دونوں یتیم بچیاں شق نمبر 02 کے حصہ اول کے مطابق آزادانہ اپنی مرضی منشاء سے شادی کرنے میں آزاد و خود مختار ہیں جبکہ ان پر براہِ راست کوئی قدغن مقرر نہ ہے البتہ دو ثالثین رشتہ داروں کو پوچھنے کے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے بھی اپنی ذمہ داری نبھائی پھر فریقِ سوئم نے کیسے معاہدہ کی شق نمبر 02 کی خلاف ورزی کی اور کیسے فریقِ دوئم سے فریقِ سوئم کے ضامن پر حلف و طلاق واجب ہوتی ہے؟
جواب :

 معاہدے  کے شق نمبر2 میں  شرط یہ لگائی گئی  ہے کہ مرحوم صلاح الدین کی دونوں بچیاں نکاح کرنے میں آزاد ہونگی،ان کو کسی جگہ  نکاح پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
بصورتِ مسئولہ  مذکورہ بیان کے مطابق چونکہ صلاح الدین مرحوم کی لڑکی کو مجبور نہیں کیا گیا ہے،بلکہ اس معاملے کو سرانجام دینے کے لئے جو دو حضرات نامزد کئے گئے تھے،ان ہی کی موجودگی میں منگنی کا مرحلہ اختتام تک پہنچا ہے۔اس لئے اس کو معاہدہ شکنی قرار نہیں دیا جاسکتا،لہذا  فریق دوم پر  نہ کوئی  طلاق واقع ہوئی ہے اور نہ اس پر جرمانہ لازم ہے۔
نوٹ:۔ معاہدہ  میں جس انداز میں  طلاق  کی شرط لگائی  گئی ہے یعنی" فلاں حلفا طلاقا ضامن " ہے،معاہدہ شکنی کی صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوتی ،کیونکہ  طلاق کےلئے انشاءطلاق(طلاق واقع کرنا) یا تعلیق ضروری ہوتی ہے،اور یہاں دونوں میں سے ایک بھی نہیں  پائی  جاتی،اسی طرح "کلما کی طلاق ہو" کے لفظ سے  بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
قال الله تعالى:
{وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا}
 [النساء: 3]
الدر المختار:
( ولا تجبر البالغة البكر على النكاح ) لانقطاع الولاية بالبلوغ ( فإن استأذنها هو ) أي الولي وهو السنة( أو وكيله أو رسوله أو زوجها ) وليها وأخبرها رسوله أو فضولي عدل ( فسكتت ) عن رده مختارة ( أو ضحكت غير مستهزئة أو تبسمت أو بكت بلا صوت ).. ( فهو إذن ).
(باب الولي: 3/ 58:دارالفكر)

الجوهرة النيرة
( وإذا أضاف الطلاق إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ) هذا بالاتفاق ؛ لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط ولأنه إذا علقه بالشرط صار عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت فإذا وجد الشرط والمرأة في ملكه وقع الطلاق كأنه قال لها في ذلك الوقت أنت طالق.
 (كتاب الطلاق:4/ 134)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب