نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ فقہ حنفی کے اہم کتب ،مثلا:القدوری،الھدایہ،کنزالدقائق وغیرہ میں ترتیب یہ ذکر کی گئی ہے،کہ سب سے زیادہ حق دار تو سلطان(حاکمِ وقت) خود ہے اگر وہ حاضر نہ ہو،تو پھر ان کا نائب،اگر وہ بھی حاضر نہ ہو،تو پھر محلے کا امام،اگر وہ بھی موجود نہ ہو تو پھر میت کا ولی جنازے پڑھانے کا زیادہ حق دار ہوگا۔چنانچہ ملاحظہ ہو۔
في الهداية:وأولى الناس بالصلاة على الميت السلطان إن حضر لأن في التقدم عليه ازدراء به فإن لم يحضر فالقاضي لأنه صاحب ولاية فإن لم يحضر فيستحب تقديم إمام الحي لأنه رضيه في حال حياته قال ثم الولي والأولياء على الترتيب المذكور في النكاح.(1/91:المكتبة الاسلامية)
في كنز الدقائق:السلطان أحق بصلاته-وهي فرض كفاية،وشرطها إسلام الميت،وطهارته-ثم القاضي إن حضر،ثم إمام الحي،ثم الولي.(فصل:1/85:مكتبة البشرى)
ان عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ محلےکے امام صاحب ،ولی پر مقدم ہے۔
البتہ علامہ خصفکیؒ نے "الدرالمختار" میں لکھا ہے کہ نمازِ جنازہ کےلئےولی کے بجائے محلے کے امام کو مقدم کرنا مستحب ہے بشرطیکہ امام صاحب ولی سے افضل ہو۔بصورتِ دیگر ولی کا خود جنازہ پڑھانا بہتر ہے۔چنانچہ ملاحظہ ہو۔
( ثم إمام الحي ) فيه إيهام وذلك أن تقديم الولاة واجب وتقديم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن يكون أفضل من الولي وإلا فالولي أولى كما في المجتبى و شرح المجمع للمصنف"(باب صلوة الجنازة:2/220:دارالفكر)
آپ نے جس کتاب میں پڑھا ہے،کہ نمازِ جنازہ کا زیادہ حقدار امامِ محلہ وہ بھی ٹھیک ہے،کیونکہ فقہ حنفی کے معتمد متون میں یہی لکھا ہے اور جس عالم نے یہ کہا کہ ولی زیادہ حقدار ہے،ان کے پیشِ نظر شاید علامہ خصفکیؒ کی عبارت ہو۔اس وجہ سے وہ بھی اپنی جگہ پر درست ہے۔
باقی علامہ ظفراحمد عثمانیؒ نے چند ایسی روایات کا استخراج کیا ہے ،جن سے معلوم ہوتا ہے کہ محلہ کے امام کو مقدم کرنا بہرصورت افضل ہے ۔چنانچہ انہوں نے مستدرکِ حاکم کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے کہ"جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے،تو حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہماان پر نمازِ جناہ کےلئے آگے بڑھے،تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا"آپ دونوں میرے پیچھے کھڑے ہوں/آپ دونوں یہ کام مجھے چھوڑ دو،کیونکہ حضرت عمر پر نمازِ جنازہ پڑھانے سے بھی بڑے کام کی ذمہ داری مجھے دی گئی ہے (کیونکہ) میں آپ لوگوں کو فرض نمازیں پڑھا رہا ہوں،چنانچہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
"عن هشام بن عروة عن أبيه قال * لما قتل عمر ابتدر علي وعثمان للصلاة عليه فقال لهما صهيب إليكما عني فقد وليت من أمركما أكثر من الصلاة على عمر وأنا أصلي بكم المكتوبة فصلى عليه صهيب"(المستدر-للحاكم:الجزء الثالث:3/:99:دارالكتب-بيروت)
دوسری روایت امام محمدؒ کی کتاب"الآثار" سے لی گئی ہے،اور راوی بھی سارے ثقہ ہیں۔ابوحنیفہؒ،حمادؒ کی وساطت سے ابراہیم نخعیؒ کا قول نقل کرتے ہیں"يصلي عليها أئمة المساجد"کہ نمازِ جنازہ ائمہ مساجد پڑھائیں گے"،اس کے بعد امام محمدؒ تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں " وبه نأخذ،ينبغي للولي أن يقدم إمام المسجد،ولا يجبر على ذلك وهوقول أبي حنيفه-رحمه الله-"ہم بھی اس قول کو لیتے ہیں،ولی کو چاہئے کہ امامِ مسجد کو مقدم کرے،تاہم ان کو اس پر مجبور نہیں کیاجاسکتا۔اور یہی ابوحنیفہ ؒ کا قول ہے۔
اس روایت کے تحت ظفراحمدعثمانیؒ فرماتے ہیں کہ امام مسجد کو مقدم کرنا تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے اثر سے ثابت ہوا،اور اسی کو حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے برقرار رکھا،اور اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی،اور نہ ہی لاتعداد صحابہ،جو اس وقت موجود تھے،میں سے کسی نے (حضرت صہیب کے اس فعل پر) نکیر فرمائی،تو گویا کہ اس بات پر صحابہ کرام کا اجماع ہے کہ فرض نماز پڑھانے والا امام میت پر نمازِ جنازہ پڑھانے میں دیگر اولیاء سے اولی اور افضل ہے۔چنانچہ ملاحظہ ہو۔
وأما تقدم إمام الحي على غير الولي،فقد ثبت بأثر صهيب،وأقره عليه الخليفتان علي وعثمان،ولم ينكرا عليه،ولا أاحد من الصحابة الذين حضروا الصلاة على سيدنا عمر رضي الله عنه وهم لا يحصى عددهم فكان كلإجماع منهم على أن إمام المكتوبة أولى بالصلوة على الميت من غيره من الأولياء(الوالي احق بصلاة الجنازة من غيره:8/253:المكتبة الحقانية)
مذکورہ تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ دو وجوہات کی بنا پر نمازِ جنازہ کےلئے محلے کے امام کو مقدم کرنا اولی ہے:
1-حدیث میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے امام ہونے کی بناء پر اپنے لئے حقِ تقدم ثابت کیا،اور اس پر نہ حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے نکیر فرمائی اور نہ ہی دیگر صحابہ کرام نے۔
2-فقہ حنفی کے اکثر معتبر متون نے امام مسجد کو زیادہ حقدار قراردیا ہے۔
نوٹ: چونکہ مسئلے کا تعلق ہے جواز اور عدمِ جواز کے ساتھ نہیں ،بلکہ اولیت اور عدم اولیت کا مسئلہ ہے،اس لئے ضروری یہ ہے کہ اس کو باعثِ نزاع نہ بنایا جائے،جہاں کوئی عالم فاضل ہو،یا نیک متقی آدمی اپنے والد کا جنازہ پڑھانا چاہے،تو امام مسجد کو بھی خوشی سے قبول کرکے اس کو اجازت دینی چاہئے،تاکہ نزاع بھی نہ ہو،اور ولی کی دلجوئی بھی ہو۔
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔