سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-541 Fatwa no: 1447-541

وطن اقامت سے گزرنے پرنماز کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا گھراٹک شہر میں ہے،جبکہ میں اسلام آباد میں مقیم ہوں،یعنی اسلام آباد میرا وطن اقامت ہے،میرا سامان سب کچھ اسلام آباد میں ہے۔ایک دن میں گھر سے کوٹلی ستیاں کے ارادے سے روانہ ہوا،اور ایک دو دن وہاں رہنا تھا۔اب مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ اٹک سے اگر اندازہ لگایا جائے تو میں مسافر تھا اور اگر اسلام آباد سے اندازہ لگایا جائے تو میں مسافر نہیں تھا کیونکہ اسلام آباد اورکوٹ ستیاں کے درمیان فاصلہ مسافتِ سفر سے کم ہے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں اسلام آباد کا اعتبار کرتے ہوئے کوٹ ستیاں میں مقیم ہو یا اٹک کا اعتبار کرتے ہوئے مسافر۔شرعی راہنمائی درکار ہے۔جزاکم اللہ خیرا۔
جواب :

اگر کسی آدمی کا وطن اقامت  میں سامان وغیرہ موجود ہو،اور وہاں واپس آنے کا ارادہ بھی ہو،تو وطن اقامت سے وطن اصلی کی طرف یا کسی اور جگہ کی طرف سفر کرنے سے وطنِ اقامت باطل نہیں ہوتا۔وہ وطن ہی برقرار رہتا ہے۔بصورت مسئولہ جب  اسلام آباد آپ کا وطنِ اقامت ہے اور اب تک وہ برقرار ہے تو کوٹ ستیاں میں آپ مقیم ہوں گے اور پوری نماز پڑھیں گے ۔
وفي البحر الرائق:وفي المحيط ولو كان له أهل بالكوفة وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة قيل البصرة لا تبقى وطنا له لأنها إنما كانت وطنا بالأهل لا بالعقار ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطنا له وقيل تبقى وطنا له لأنها كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كوطن الإقامة تبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر(باب صلوة المسافر: 2/ 147:دارالمعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب