نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں مذکورہ انعامی کارڈ جس میں دس ریال ہوتے ہیں اس کو دس ریال سے کمی وبیشی پر بیچنا شرعا جائز نہیں ہے ،کیونکہ یہ کمی بیشی سود کے زمرہ میں آتی ہے،البتہ برابر سرابرنقدا ً بیچنا جائز ہے ۔
كما في قوله تعالى:
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ.
(سورة البقرة،آيت275)
وفي موسوعة الفقه الإسلامي:
الربا المحرم في الإسلام نوعان:الأول: ربا النسيئة: وهو أصل الربا، ولم تكن العرب في
الجاهلية تعرف سواه، وهو الذي كانوا يأخذونه بسبب تأخير قضاء دين مستحَق إلى أجل جديد، وقد ثبت تحريمه بالقرآن والسنة.وهو الذي حذرهم الله منه بقوله سبحانه: "يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ".
الثاني: ربا البيوع: ويسمى ربا الفضل، وقد حُرِّم سداً للذرائع؛ لأنه ذريعة إلى ربا النسيئة، لاشتماله على زيادة بدون عوض.وهو بيع النقود بالنقود مع الزيادة، أو الطعام بالطعام مع الزيادة، وقد ثبت تحريمه بالسنة.
(أنواع الربا،ج3،ص472،ط:بيت الأفكار الدولية)
وفي مجلة مجمع الفقه الإسلامي:
أما من يشتري الدين بنقد، فإنه يشتري النقود الواجبة في ذمة المديون، فهو في حكم بيع النقود بالنقود، ولا يجوز فيه التفاضل.
(بيع الدين والأوراق المالية،ج11،ص35،ط:الشاملة)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 13 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔