نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا،اس کے سامنے جس طرح کا سوال بنا کر پیش کیا جاتا ہے،وہ اسی کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،چنانچہ اگر کوئی سوال میں کمی کوتاہی کرکے اپنی مرضی کا جواب وصول کرتا ہے،تو اس کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے پر ہوتی ہے۔
بصورت مسئولہ :1-اگر طالبِ علم کی کسی مدرسے سے وفاق کا امتحان دے کر سند آجاتی ہے،تو یہ سند بلا معاوضہ اس طالبِ علم کا حق ہے،اس پر کسی قسم کی فیس وصول کرنا جائز نہیں،اس سے احتراز ضروری ہے۔البتہ اگر مدرسے والوں کا طالبِ علم کے ذمہ کوئی مالی حق لازم ہے،مثلا،اس کے ذمہ مدرسے کا ماہانہ یا سالانہ طے شدہ فیس باقی ہے،تو اس صورت میں وہ اپنے حق کی وصولیابی کےلئے سند روک سکتےہیں۔بصورتِ دیگر نہیں۔
2-دوسرے سوال میں یہ بات سمجھنے چاہئے کہ جس شیخ سے آدمی احادیث پڑھتا ہے،تو ان کی اجازت کاغذی سند پر موقوف نہیں ہوتی،لہذا اگر کوئی طالبِ علم اپنے شیخ کا سلسلہ سند ،قلم کے ذریعہ سے محفوظ کرتاہے،تو اس کو بھی اجازت حاصل ہوجاتی ہے۔شیخ کے نام کا بنایا ہوا سند خریدنا لازمی نہیں،تاہم اگر کوئی اپنی مرضی سے اپنے شیخ کے نام کا بنایا ہوا کاغذی سند خریدنا چاہتاہے،تو اس صورت میں ان کی مرضی ہے،چاہے جتنے کا بھی فروخت کریں،لہذا اس صورت میں طالبِ علم کو اشکال کا حق حاصل نہیں۔
قال الله تعالى:
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء: 29]
السنن الكبرى:
لايحل مال امرئ من اخيه الاما اعطاه من طيب نفس.
(كتاب الغصب:باب ما لايملك أحد بالجناية:160/6:بيروت
فقه البيوع:
الثاني:أن الفتوى مبنية على السوال الذي قدمه السائل إلى المفتي،فيبين المفتي الحكم الشرعي على فرض أن السؤال مطابق للواقع،وليس من وظيفته أن يحقق صحته في نفس الأمر بطلب البينة وغيرها،ولذلك يقول المفتي:(الحكم في الصورة المسؤل عنها كذا) ولا يلزم منه أن تكون الصورة المسؤل عنها موافقة للواقع في نفس الأمر.
(الفرق بين القضاء والإفتاء:14:ط:معارف القرآن كراتشي)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔