سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-543 Fatwa no: 1447-543

یتیم خانہ میں مسجد بنانا اور دونوں کے اخراجات ایک ہی فنڈ سے پورے کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :فیض الاسلام ایک مشہور فلاحی ادارہ ہے ،مختلف جگہوں پر ان کے قیام گاہ موجود ہیں ،ان میں سے ایک فیض آباد میں بھی ہے جس میں یتیم بچوں کی پرورش کی جاتی ہے ،اس میں پہلے تو قرآ ن پاک حفظ کرایا جاتا تھا ،آہستہ آہستہ اس میں حفظ کی کلاس کو ختم کیا گیا ہے اور اسکول کی تعلیم کا اجرا کیا جارہا ہے ،اس کے علاوہ اور بھی فنی پروگرام شامل کئے جارہے ہیں ،بہر حال اس عمارت کے اندر ایک بڑا حال ہے ،جہاں باجماعت نماز اداکی جاتی ہے ،اس کا نہ محراب ہے نہ ہی مینار ،اس کو مسجد کانام دیا گیا ہے ،جمعہ کی نماز بھی ادا کی جاتی ہے ، اکثر صبح کے وقت باہر والا گیٹ بند ہوتا ہے ،جسکی وجہ سے باہر کے حضرات وہاں نہیں جاسکتے ،ناگزیر حالات کی وجہ سے بھی کبھی کبار باہر والا گیٹ بند کر دیا جاتا ہے ،دوسرا یہ کہ جو شخص بھی یہاں چندہ دیتا ہے ، صدقہ خیرات اور زکوۃ ہی کی مد میں ادا کرتا ہے ،چونکہ باہر اشتہار بھی یتیم بچوں والا لگاہوا ہے ،لیکن اسی چندے سے یہ لوگ مسجد کے تمام اخراجات بھی پورے کرتے ہیں ،یعنی جیسے مدارس میں چندے کے دو ڈبے لگے ہوتے ہیں ایک مسجد کا ڈبہ اور ایک مدرسہ کا ،لیکن یہاں یہ تخصیص نہیں ہے ،بلکہ یتیم بچوں کے مال ہی سے مسجد کے اخراجات بھی پورے کئے جاتے ہیں ،لہذا اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس کو مسجد کا درجہ دیا جاسکتا ہے ؟اور ا س میں باہر سے آنے والے شخص کا نماز پڑھنا کیسا ہے ؟رہنمائی فرمائیں
جواب :

 واضح رہے کہ یتیم بچوں کی کفالت کرنا باعث اجر وثواب ہے ،اور احادیث میں بھی اس کی   فضیلت بیان کی گئی ہے،جیسے آپﷺ   نے فرمایا : کہ "جس  نے کسی یتیم کی کفالت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا "لیکن اس کے برعکس جس نے یتیم کے مال کو ناحق طور پر  کھایا  ،اس پر بھی بہت سی وعیدیں ہیں  ،جیسے اللہ تعالی نے فرمایا :کہ" یتیم کے مال کھانے والے اپنے پیٹوں میں آگ ڈال رہے ہوتے ہیں "اس لئے  یتیم کے مال میں بہت احتیاط سے کام لینا  چاہئے ۔
بصورت مسؤلہ     (1)  جو لوگ مذکورہ ادارہ کو چلانے والے ہیں ان پر لازم ہے کہ مسجد اور یتیم خانہ کے فنڈ کو الگ الگ رکھیں ،   تاکہ ہر ایک کے ضروریات اسی کے فنڈ سے پورے کئے جائیں اور  اشتباہ نہ آئے ،کیونکہ مسجد میں صدقات واجبہ صرف کرنا جائز نہیں ۔
(2) مذکورہ جگہ کو  اگر  مالک نے نماز  کے لئے ہی خاص کیا ہے ، اور وہاں ہر نماز کے لئے اذا ن دی جاتی ہے اور باجماعت نماز ہوتی ہے ،تو اس کو مسجد کہنا اور اس کے اندر باہر کے   لوگوں کا نماز پڑھنا جائز ہے،صرف محراب نہ ہونے سے مسجد نہ ہونا لازم نہیں آتا۔
كما قال الله تعالي في القران المجيد:
إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا.
(سورة النساء ،الاية:10)

وفي المعجم الكبير:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ عَمْرٍو الْجُمَحِيَّةِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ كَفَلَ يَتِيمًا لَهُ ، أَوْ لِغَيْرِهِ مِنَ النَّاسِ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ.
(ج:25،ص:98،ط: دار إحياء التراث العربي)
وفي الهداية:
قال رحمه الله: " الأصل فيه قوله تعالى: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} [التوبة: 60] الآية فهذه ثمانية أصناف والفقير من له أدنى شيء والمسكين من لا شيء له "
(باب من يجوز دفع الصدقة،ج:1،ص:110،ط: دار احياء التراث العربي)
وفي الفتاوى الهندية:
فلو جعل وسط داره مسجدا وأذن للناس في الدخول والصلاة فيه إن شرط معه الطريق صار مسجدا في قولهم وإلا فلا عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، وقالا: يصير مسجدا وتصير الطريق من حقه من غير شرط، كذا في القنية وفي السغناقي ولو عزل بابه إلى الطريق الأعظم يصير مسجدا، كذا ذكره الإمام قاضي خان، كذا في التتارخانية.
(الفصل الاول،ج:2،ص:455،ط: دار الفكر)
وفيه أيضا:
الفاضل من وقف المسجد هل يصرف إلى الفقراء؟ قيل: لا يصرف وأنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد، كذا في المحيط.
(الفصل الاول،ج:2،ص:463،ط: دار الفكر)
وفي الأَصْل:
أخبرونا عن رجل جعل أرضه مسجداً فبناها كما يبنى المسجد وجعلها لعامة المسلمين وأذن للناس في الصّلاة في ذلك  المسجد، فأذن به المؤذن وأمَّ فيه الإمام وأخرجه إلى الطريق الأعظم وأبانه عن ملكه وصلّى فيه المسلمون هكذا زماناً طويلًا، ثم أراد بعد ذلك أن يهدمه ويدخله في ملكه ويبيعه أله ذلك؟ قالوا: لا.
(باب في ارض الموقوفة،ج:12،ص:100،ط: بيروت)
وفي تبيين الحقائق:
قال رحمه الله: (وبناء مسجد) أي لا يجوز أن يبنى بالزكاة المسجد لأن التمليك شرط فيها ولم يوجد وكذا لا يبنى بها القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه.
(باب المصرف ،ج:1،ص:300،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

Mufti

تاریخ جواب: 13 May 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب