نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
امریکہ میں ایک شخص اے ٹی ایم مشین خرید لیتا ہے اور اس کا تعلق ایک بینک کے ساتھ ہوتا ہے ،جس میں اس کا اکاؤنٹ ہوتا ہے،یہ شخص اس مشین میں اپنی ذاتی رقم ڈالتا ہے،جس کے بعد وہ لوگ جن کا بینک میں اکاؤنٹ ہوتا ہے،وہ اپنی ضرورت کے بقدر اس سے رقم نکالتے ہیں ،مشین چونکہ بینک کے ساتھ کنکٹ ہوتی ہے،اس لئے اس آدمی کےاکاؤنٹ سے بینک والے مذکورہ رقم بمع چارج کاٹ کر دوبارہ اے ٹی ایم مشین والے کے اکاؤنٹ میں بھیجتے ہیں اور یہ اے ٹی ایم مشین والا شخص دوبارہ رقم نکال کر منافع خود رکھتا ہےاور رقم دوبارہ اے ٹی ایم مشین میں رکھتا ہے،مثلا کوئی شخص مشین سے 100 ڈالر نکال لیتا ہے،تو اس شخص کے اکاؤنٹ سے 102 ڈالر کاٹ لئے جاتے ہیں جوکہ مشین والے شخص کے اکاؤنٹ میں ڈال دیئے جاتے ہیں ،تو پوچھنا یہ ہے کہ شخص مذکور کیلئے دو ڈالر نفع لینا جائز ہے یا نہیں ؟
تنقیح:رقم نکالنے والا زیادہ رقم نکالے یا کم ،ہر صورت مشین والے کو صرف دو ڈالر نفع ملتا ہے۔
صورت مسئولہ میں چونکہ دو ڈالر نفع مشین کاخرچہ اور دیگر خدمات (مثلا اکاؤنٹ سے رقم نکالنا،مشین میں رقم ڈالناوغیرہ) کی اجرت کے طورپر شخص مذکور وصول کرتا ہے،اس لئے یہ نفع لینا جائز ہے۔
كما في فقه البيوع:
والظاهر أن هذا التكييف صحيح، فإن مثل هذه الإجراءات والخدمات لا يجب أن تكون أجرتهامحددة بالنفقات الفعلية، ولكن يجب أن لا تتجاوز أجرة المثل لهذه الخدمات.....فالظاهر أن هذه الرسوم مقابلة للخدمات المذكورة لإصدار البطاقة والإجراءات التي يحتاج إليها لاستخدامها من قبل الحامل.
(حكم عمولة إصدار البطاقة،ج1،ص442،ط:معارف القرآن)
وفى المعايير الشرعية:
يجوز للمؤسسة المصدرة للبطاقة أن تفرض رسما مقطوعا متناسبا مع خدمة السحب النقدي، وليس مرتبطا بمقدار المبلغ المسحوب.
(بطاقة الحسم وبطاقة الإئتمان،رقم2،ص81)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔