سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-52 Fatwa no: 1447-52

ایسی آبادی جہاں دکانیں منتشر ہوں وہاں نمازِ جمعہ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک جگہ ہے جس میں بازار کی معروف شکل نہیں ،بلکہ جگہ جگہ پر دکانیں ہیں ،جس سے وہاں کے لوگوں کی روزمرہ کی تمام ضروریات پوری ہوتی ہیں، اس کے علاوہ بھی نمازجمعہ کے تمام شرائط پائے جاتے ہیں ،تو پوچھنا یہ ہے کہ اس جگہ میں نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟کیونکہ لوگوں کی تمام ضروریات زندگی وہاں پر موجود ہیں یا بازار کا ہونا ضروری ہے؟
جواب :

صورت مسئولہ میں اگر واقعتا ً مذکورہ جگہ میں نماز جمعہ کی تمام   شرائط پائی جاتی  ہوں اور لوگوں کی روزمرہ کی ضروریات بھی پوری ہوتی ہوں،تو اس صورت میں مذکورہ جگہ میں  نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے،اگرچہ معروف شکل میں بازار نہ ہو ،لیکن بہتر یہ ہے کہ معتبر مفتیان کرام کو مذکورہ جگہ کا وزٹ کرایا جائے،وہ جو فیصلہ کریں تو اس پر عمل کیا جائے۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
والحد الصحيح ما اختاره صاحب الهداية أنه الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود.....عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح.
(باب الجمعة،ج2،ص137،ط:دارالفكر)
وفى البحر الرائق:
وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر. ثانيهما ماعزوه لابي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على انصاف المظلوم من الظالم بحشمة وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث. قال في البدائع: وهو الاصح وتبعه الشارح وهو أخص ما في المختصر.
(كتاب الصلاة،ج2،ص246،ط: دار الكتب العلمية)
وفي بدائع الصنائع:
وقال بعض أصحابنا: المصر الجامع ما يتعيش فيه كل محترف بحرفته من سنة إلى سنة من غير أن يحتاج إلى الانتقال إلى حرفة أخرى..... وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح.
(فصل في بيان شرائط الجمعة،ج1،ص260،ط:دارالكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب