نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںالسلام علیکم ورحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ! ایک بکرے کا عضوِ تناسل پیدائشی طور پر ٹیڑھا ہے، جس کی وجہ سے وہ پیشاب کرتے وقت سیدھا آگے کی طرف پیشاب نہیں کر پاتا بلکہ پیشاب اس کی پچھلی ٹانگوں پر گرتا ہے۔ نیز اسی خرابی کی وجہ سے اس سے جفتی بھی ممکن نہیں ہو سکی۔کیا ایسے بکرے کی قربانی شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ مکمل رہنمائی فرمائی جائے۔ جزاکم اللہ خیراً
قربانی کے جانور کے عیوب کے بارے میں فقہاءِ کرام نے یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ (كلُّ عيبٍ يؤثِّر في اللحم يمنع، وإلا فلا... وكذا ....كلُّ عيبٍ يزيل المنفعةَ على الكمال، أو الجمالَ على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع) اس ضابطہ کی رو سے ہر عیب قربانی سے مانع نہیں ہوتا، بلکہ مانع وہی عیب ہوتا ہے جو جانور کے گوشت کو متاثر کرے، یا اس کی اصل منفعت کو بالکلیہ ختم کر دے، یا اس کی ظاہری خوبصورتی میں فاحش اور نمایاں نقص پیدا کرے، جو عیوب ان اوصاف کے حامل نہ ہوں وہ قربانی سے مانع نہیں ہوتے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور عیوب (آلۂ تناسل کا ٹیڑھا ہونا اور جفتی پر قادر نہ ہونا) نہ تو گوشت میں کسی قسم کا خلل پیدا کرتے ہیں، نہ جانور کی اصل منفعت کو زائل کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی ظاہری خوبصورتی میں ایسا نمایاں نقص پیدا کرتے ہیں جس کی بنا پر اسے معیوب قرار دیا جائے، لہٰذا مذکورہ عیوب کی موجودگی کے باوجود مذکورہ جانور کی قربانی جائز ہے۔
حاشية ابن عابدين:
[تتمة] تجوز التضحية بالمجبوب العاجز عن الجماع، والتي بها سعال، والعاجزة عن الولادة لكبر سنها، والتي لها كي، والتي لا لسان لها في الغنم خلاصة: أي لا البقر لأنه يأخذ العلف باللسان والشاة بالسن كما في القهستاني عن المنية .
(كتاب الأضحية (6/ 325) دار الفكر – بيروت)
البناية شرح الهداية:
(والثولاء) ش: أي قال القدوري: ويجوز أن يضحي بالثولاء م: (وهي المجنونة) ش: لأن العقل غير مقصود في البهائم. وقال الكرخي في " مختصره ": قال هشام: وسألته عن الجرباء والثولاء؛ قال: إذا كانا سمينتين أجزأتا، وإن كانا عجفاوين لم يجزئا، وهو قول أبي يوسف. م: (وقيل: هذا إذا كانت تعتلف) ش: أي ما ذكر من الجواز إنما يكون إذا كانت المجنونة تأكل العلف م: (لأنه لا يخل بالمقصود) ش: أي لأن الجنون لا يخل بالمقصود وهو الانتفاع باللحم م: (أما إذا كانت لا تعتلف لا تجزئه) ش: لأنه ينتقص به اللحم. م: (والجرباء إن كانت سمينة جاز؛ لأن الجرب في الجلد ولا نقصان في اللحم، وإن كانت مهزولة لا تجوز؛ لأن الجرب في اللحم فانتقص) ش: والأصل عند العلماء كل عيب يؤثر في اللحم يمنع وإلا فلا.
(التضحية بالجرباء والثولاء (12/ 41) : دار الكتب العلمية)
المحيط البرهاني:
ومن المشايخ من يذكر هذا الفصل أصلاً، ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال، أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع.
(الفصل الخامس في بيان ما يجوز في الضحايا (6/ 93) دار الكتب العلمية)
الفتاوى العالمكيرية:
والشطور لا تجزئ وهي من الشاة ما انقطع اللبن عن إحدى ضرعيها، ومن الإبل والبقر ما انقطع اللبن من ضرعيهما؛ لأن لكل واحد منهما أربع أضرع، كذا في التتارخانية. ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع
(الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب (5/ 299) دار الفكر بيروت)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 07 Jul 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔