سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-53 Fatwa no: 1447-53

ایک گاؤں میں ضرورت کے تحت دوسری مسجد بنانے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ہمارا گاؤں تقریبا 240  گھروں پر مشتمل ہے،جس میں سے تقریبا 40 ، 50 گھر سڑک کے دوسرے کنارے پر واقع ہیں ،ہمارے گاؤں میں ایک ہی جامع مسجد ہے ،جس میں ہم سب گاؤں والے اکٹھے نماز پڑھتے ہیں،لیکن اب ہم اپنے لئے دوسری مسجد بنانا چاہتے ہیں ،جس کی چند وجوہات ہیں ،جو کہ مندرجہ ذیل ہیں :
1۔ہمارے گاؤں کی آبادی کافی زیادہ ہوچکی ہے ۔
2۔تقریبا 40 ، 45 گھر سڑک کے دوسرے کنارے پر واقع ہونے کی وجہ سے نماز کیلئے جانے میں بعض لوگوں کو جی ٹی روڈ (سڑک ) پار کرنے میں کافی تکلیف ہوتی ہے،نیز یہ کہ چند سال بعد یہ سڑک بھی ڈبل ہوجائے گا ،جس کی وجہ سے مزید تکلیف ہوگی۔
3۔ہماری جامع مسجد کے امام صاحب کا بچوں کو قرآن پڑھانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے ،جس کی وجہ سے ہمارے بچے دوسرے گاؤں میں ناظرہ  وغیرہ پڑھنے کیلئے جاتے ہیں ۔
4۔امام  صاحب کے ساتھ بعض معاملات کی وجہ سے بہت سارے لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا  چھوڑ دیا ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا مذکورہ صورت حال میں جبکہ سخت ضرورت بھی ہے ،ہم اپنے لئے الگ مسجد بنا سکتے ہیں یا نہیں ؟ نیز ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ  دوسری مسجد بنانا شرعا جائز  نہیں ہے،کیونکہ یہ مسجد ضرار ہے،تو کیا ہمارے امام صاحب کی بات درست ہے یا نہیں؟

جواب :

سوال میں ذکرکردہ وجوہات کی بناء پر دوسری مسجد بنانا  شرعا جائز ہے،بلکہ  موجب اجر وثواب ہے،خصوصاً جب ضرورت بھی ہے،نیز مذکورہ وجوہات کی بناء پر اس دوسری مسجد کو مسجد ضرار کہنا درست نہیں ہے ۔
كما في قوله تعالى:
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ.
(سورة التوبة،آية 18)
وفي أحكام القرآن للجصاص:
قوله تعالى والذين اتخذوا مسجدا ضرارا وكفرا الآية روي عن جماعة من السلف أنهم كانوا اثني عشر رجلا من الأوس والخزرج قد سموا استأذنوا النبي صلى الله عليه وسلم في بناء مسجد لليلة الشاتية والمطر والحر ولم يكن ذلك قصدهم وإنما كان مرادهم التفريق بين المؤمنين وأن يتحزبوا فيصلي حزب في مسجد وحزب في مسجد آخر لتختلف الكلمة وتبطل الألفة والحال الجامعة وأرادوا به أيضا ليكفروا فيه بالطعن على النبي صلى الله عليه وسلم والإسلام فيتفاوضون فيما بينهم من غير خوف من المسلمين لأنهم كانوا يخلون فيه فلا يخالطهم فيه غيرهم.
(سورة التوبة،آية 104،ج4،ص367،ط:داراحياء التراث العربي)
وفى الفتاوى الهندية:
أهل محلة قسموا المسجد وضربوا فيه حائطا ولكل منهم إمام على حدة ومؤذنهم واحد لا بأس به، والأولى أن يكون لكل طائفة مؤذن، قال ركن الصباغي كما يجوز لأهل المحلة أن يجعلوا المسجد الواحد مسجدين فلهم أن يجعلوا المسجدين واحدا لإقامة الجماعة، أما للتذكير والتدريس فلا؛ لأنه ما بني له وإن جاز فيه، كذا في القنية.
(الباب الخامس في آداب المسجد،ج5،ص320،ط:دارالفكر)
وفى البحر الرائق:
وإذا قسم أهل المحلة المسجد وضربوا فيه حائطا ولكل منهم إمام على حدة ومؤذنهم واحد لا بأس به، والاولى أن يكون لكل طائفة مؤذن.
(كتاب الصلاة،ج2،ص62،ط:دارالكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب