سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-544 Fatwa no: 1448-544

عدت كے بعد طلاق دينے كا حكم

براہ راست فتویٰ
سوال :
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے حضرت خیریت سے ہوں گے، سائل کا سوال یہ ہے کہ اس نے مورخہ 4 مئی 2025ء کو فون پر اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، جس کے بعد دونوں نے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس دوران عدت کے اندر نہ قولاً رجوع ہوا اور نہ فعلاً،البتہ شوہر نے اپنے گھر والوں کے سامنے رجوع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، لیکن لڑکی کی عدم رضامندی کی وجہ سے رجوع نہ ہوسکا، لہٰذا عدت کے دوران شرعاً نہ قولی رجوع ہوا اور نہ فعلی۔اس کے بعد مورخہ 30 نومبر 2025ء کو، یعنی پہلی طلاق کے تقریباً چھ سے ساڑھے چھ ماہ بعد، جب پہلی طلاق کی عدت گزر چکی تھی، سائل نے یونین کونسل کے طلاق سے متعلق فارم پر تین طلاقیں درج کرکے اس پر اپنے دستخط کر دیے،اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں شرعاً کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ نیز یونین کونسل کے فارم پر تین طلاقیں درج کرکے اس پر دستخط کرنے سے مزید طلاقیں واقع ہوئی ہیں یا نہیں؟ اگر صرف ایک طلاق واقع ہوئی تھی تو کیا عدت گزرنے کے بعد دونوں کا باہمی نکاح دوبارہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اگر ہوسکتا ہے تو اس کی شرعی صورت کیا ہوگی؟ براہِ کرم مذکورہ صورت کے مطابق تحریری فتویٰ عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
جواب :

اگر سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال واقعتاً درست ہے اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی نہیں کی گئی، تو صورتِ مسئولہ میں شوہر کی جانب سے ایک طلاقِ رجعی دینے کے بعد عدت گزرنے کے ساتھ ہی عورت شوہر پر بائنہ ہوگئی تھی اور نکاح ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد یونین کونسل میں طلاق فارم پر تین طلاقیں درج کرکے اس پر دستخط کرنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی؛ کیونکہ طلاق کا وقوع نکاح کے قائم ہونے پر موقوف ہوتا ہے، اور نکاح ختم ہوجانے کے بعد دی جانے والی طلاق شرعاً واقع نہیں ہوتی۔لہٰذا مذکورہ صورت میں شرعاً صرف ایک طلاق واقع ہوئی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح  کرنا چاہیں تو نئے مہر اور دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔
البتہ چونکہ ایک طلاق واقع ہوچکی ہے، اس لیے نئے نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا،  لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملے میں انتہائی احتیاط اور سنجیدگی سے کام لینا چاہیے۔
وفی المحیط البرهانی :
أجمع العلماء علی أن الصریح یلحق بالصریح ما دامت فی العدة ۔ 
(4/480)
الدر المختار:
 الصریح یلحق الصریح و  یلحق  البائن  بشرط العدة . 
 وفی الشامية تحته :
 (قوله بشرط العدة) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق، فالأولى تأخيره عنها. اهـ
(3/ 306) 

 

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 07 Jul 2026