نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںاگر سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال واقعتاً درست ہے اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی نہیں کی گئی، تو صورتِ مسئولہ میں شوہر کی جانب سے ایک طلاقِ رجعی دینے کے بعد عدت گزرنے کے ساتھ ہی عورت شوہر پر بائنہ ہوگئی تھی اور نکاح ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد یونین کونسل میں طلاق فارم پر تین طلاقیں درج کرکے اس پر دستخط کرنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی؛ کیونکہ طلاق کا وقوع نکاح کے قائم ہونے پر موقوف ہوتا ہے، اور نکاح ختم ہوجانے کے بعد دی جانے والی طلاق شرعاً واقع نہیں ہوتی۔لہٰذا مذکورہ صورت میں شرعاً صرف ایک طلاق واقع ہوئی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو نئے مہر اور دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔
البتہ چونکہ ایک طلاق واقع ہوچکی ہے، اس لیے نئے نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملے میں انتہائی احتیاط اور سنجیدگی سے کام لینا چاہیے۔
وفی المحیط البرهانی :
أجمع العلماء علی أن الصریح یلحق بالصریح ما دامت فی العدة ۔
(4/480)
الدر المختار:
الصریح یلحق الصریح و یلحق البائن بشرط العدة .
وفی الشامية تحته :
(قوله بشرط العدة) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق، فالأولى تأخيره عنها. اهـ
(3/ 306)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 07 Jul 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔