سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-545 Fatwa no: 1448-545

کفارہ یمین کی ادائیگی کی نیت سے مقروض کو قرض معاف کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
السلام علیکم ورحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ! ایک مسئلہ دریافت کرنا ہےکہ میرے ذمہ کفارۂ یمین واجب ہے، ایک شخص پر میرا کچھ قرض ہے جو وہ اس وقت ادا نہیں کر رہا۔ کیا میں اس کا قرض معاف کر کے اسے کفارۂ یمین میں شمار کر سکتا ہوں؟براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرما دیں کہ کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا کفارہ ادا کرنے کا الگ طریقہ اختیار کرنا ضروری ہوگا؟جزاکم اللہ خیراً
جواب :

واضح رہے کہ زکوٰۃ اور کفارات کی ادائیگی کے لیے "تملیک" شرط ہے، جس طرح تملیک کے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، اسی طرح کفارۂ یمین بھی تملیک کے بغیر  ادا نہیں ہوتا، جبکہ قرض معاف کرنے سے تملیک متحقق نہیں ہوتی، اس لیے محض قرض معاف کرنے سے نہ زکوٰۃ ادا ہوتی ہے اور نہ ہی کفارۂ یمین ،لہٰذا مذکورہ طریقے کے مطابق قرض معاف کرنے سے کفارۂ یمین ادا نہیں ہوگا ،مزید یہ کہ کفارۂ یمین کی ادائیگی میں یہ بھی ضروری ہے کہ پورا کفارہ ایک ہی دن میں ایک مسکین کو دینا درست نہیں، اگر ایک ہی مسکین کو دینا ہو تو اسے دس دن تک ہر روز ایک صاع (تقریباً دو کلو) گندم یا اس کی قیمت  دینا ضرروی ہے۔
البتہ اگر آپ یہ چاہیں کہ کفارہ بھی ادا ہو اور مقروض بھی قرض سے بری ہو تو اس کا ایک درست طریقہ ہے کہ کفارۂ یمین کی نیت سے مقروض( بشرطیکہ مستحقِ زکوٰۃ ہو) کو دس دن  تک ہر روز تقریباً دو کلو گندم کی قیمت کے برابر رقم دے کر اس کا مالک بنا دیا جائے۔ جب وہ اس رقم کا مالک بن جائے تو کفارۂ یمین ادا ہو جائے گا، اس کے بعد وہی رقم اس سے بطورِ قرض واپس لے لی جائے۔ اس طریقے سے ایک طرف کفارہ ادا ہو جائے گا اور دوسری طرف مقروض بھی قرض سے بری الذمہ ہو جائے گا۔
  الدرالمختار مع رد المحتار:
واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين وعن الدين يجوز ‌وأداء ‌الدين ‌عن ‌العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه، ولو امتنع المديون مد يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه، فإن مانعه رفعه للقاضي
رد المحتار:
وفي صورتين لا يجوز: الأولى أداء الدين عن العين كجعله ما في ذمة مديونه زكاة لماله الحاضر... الثانية أداء دين عن دين سيقبض كما تقدم عن البحر.... (قوله وحيلة الجواز) أي فيما إذا كان له دين على معسر، وأراد أن يجعله زكاة عن عين عنده أو عن دين له على آخر سيقبض (قوله أن يعطي مديونه إلخ) قال في الأشباه وهو أفضل من غيره أي لأنه يصير وسيلة إلى براءة ذمة المديون.
(‌‌كتاب الزكاة (2/ 270) دار الفكر – بيروت)
حاشية ابن عابدين:
باب المصرف (قوله: أي مصرف الزكاة والعشر) يشير إلى وجه مناسبته هنا، والمراد بالعشر ما ينسب إليه كما مر فيشمل العشر ونصفه المأخوذين من أرض المسلم وربعه المأخوذ منه إذا مر على العاشر أفاده ح. وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك ‌من ‌الصدقات ‌الواجبة كما في القهستاني.
(باب مصرف الزكاة والعشر  (2/ 339) دار الفكر بيروت)
حاشية ابن عابدين:
مطلب كفارة اليمين (قوله تحرير رقبة) لم يقل عتق رقبة لأنه لو ورث من يعتق عليه فنوى عن الكفارة لم يجز نهر (قوله عشرة مساكين) أي ‌تحقيقا ‌أو ‌تقديرا، ‌حتى ‌لو ‌أعطى ‌مسكينا ‌واحدا في عشرة أيام كل يوم نصف صاع يجوز، ولو أعطاه في يوم واحد بدفعات في عشر ساعات، قيل يجزئ، وقيل لا، وهو الصحيح لأنه إنما جاز إعطاؤه في اليوم الثاني تنزيلا له منزلة مسكين آخر لتجدد الحاجة من حاشية السيد أبي السعود.
 (‌‌كتاب الأيمان (3/ 725) دار الفكر بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 11 Jul 2026