سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-54 Fatwa no: 1447-54

ایک مجلس میں بار بار آیت سجدہ دہرانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : میں حافظ قرآن ہوں مسجد میں پارہ باربار دہراتا ہوں بعض مرتبہ ایک آیت کئی مرتبہ دہرانا پڑھتا ہے تو اگر آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرلیا جائے اور پھر اس آیت کو دوبارہ پڑھ لیا جائے اسی مجلس میں تودوبارہ سجدہ کرنا پڑے گا یا پہلا سجده کافی ہے ، اور اگر مسجد میں چل پهر کرکے ایک ہی آیت سجدہ کو باربار پڑھا جائے تو ایک سجدہ کافی ہوگا یا کئی سجدے ؟
جواب :

واضح رہے کہ ایک ہی آیت سجدہ کو ایک ہی مجلس میں بار بار دہرانے سے ایک مرتبہ سجدہ تلاوت لازم ہوتا ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں ایک آیت سجدہ کو پڑھ کے سجدہ کیا پھر اسی مجلس میں دوبارہ اسی آیت کو دہرایا تو دوبارہ سجدہ کرنا لازم ہوگا پہلا سجدہ کافی نہیں ہوگا ، اس طرح چونکہ مسجد بمنزلہ ایک مجلس کے ہے اس لئے مسجد میں چل پھر کرکے ایک آیت سجدہ باربار دہرانے سے بھی ایک ہی مرتبہ سجدہ تلاوت لازم ہوگا ۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(وَلَوْ كَرَّرَهَا فِي مَجْلِسَيْنِ تَكَرَّرَتْ وَفِي مَجْلِسٍ) وَاحِدٍ (لَا) تَتَكَرَّرُ بَلْ كَفَتْهُ وَاحِدَةٌ وَفِعْلُهَا بَعْدَ الْأُولَى أَوْلَى قُنْيَةٌ. وَفِي الْبَحْرِ التَّأْخِيرُ أَحْوَطُ وَالْأَصْلُ أَنَّ مَبْنَاهَا عَلَى التَّدَاخُلِ دَفْعًا لِلْحَرَجِبِشَرْطِ اتِّحَادِ الْآيَةِ وَالْمَجْلِسِ.
(قَوْلُهُ وَفِي الْبَحْرِ التَّأْخِيرُ أَحْوَطُ) لِأَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ إنَّ التَّدَاخُلَ فِيهَا فِي الْحُكْمِ لَا فِي السَّبَبِ، حَتَّى لَوْ سَجَدَ لِلْأُولَى ثُمَّ أَعَادَهَا لَزِمَتْهُ أُخْرَى كَحَدِّ الشُّرْبِ وَالزِّنَا.
(باب سجود التلاوة،ج2،ص712،ط:مكتبة رحمانية)
وفي الهندية:
ومن حكم هذه السجدة التداخل حتى يكتفي في حق التالي بسجدة واحدة وإن اجتمع في حقه التلاوة والسماع وشرط التداخل اتحاد الآية واتحاد المجلس.
وفيه أيضا: وإن انتقل في المسجد الجامع من زاوية إلى زاوية لا يتكرر الوجوب.
(الباب الثالث عشر في سجود التلاوة،ج1،ص287،ط:مكتبة رشيدية)
وفي المحيط البرهاني:
رجل قرأ آية السجدة فسجدها ثم قرأها في مجلسه، فعليه أن يسجدها، وإن قرأها فلم يسجدها حتى قرأها ثانية في مجلسه، فعليه سجدة واحدة.
(الفصل الحادي والعشرون في سجدة التلاوة،ج2،ص367،ط:ادارة القرآن والعلوم الإسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب