نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمذکورہ حدیث کے مصداق میں مختلف اقوال ہیں بعض شارحین نے حدیث کے لفظ (الفارس ) سے عجم مراد لیےہیں اور بعض نے (رجال من ھولاء ) سے تابعین ،بعض نے ہر اس شخص کو مراد لیا ہے جو صحابہ کے بعد مسلمان ہوئےاور بعض نےتا قیامت تک آنے والے مسلمان کو اس میں شامل کیا ہے ،الغرض اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں ،لیکن ان میں سے صحیح قول یہی ہے کہ اس سےمراد سلمان فارسی اور ان کی قوم ہے جیسے کہ اس کے علاوہ دوسری حدیث( یعنی کہ آپﷺ نے سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا ہے اگر ایمان ثریا ستارہ پر ہو تو بھی اس کی قوم میں سے کچھ لوگ یا ایک شخص اس کو پالے گا) میں بھی اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ مذکورہ حدیث کامصداق سلمان فارسی اور ان کی قوم ہےنیز اس کی تشریح میں فقہاء نے لکھا ہے کہ آپﷺ نےجو فرمایا تھا ویسا ہی ہوا کہ سلمان فارسی کی قوم میں بعد میں آنے والے بعض افراد مثلاًتابعین میں سےاما م ابو حنیفہ ؒ،امام بخاری اور عبداللہ بن مبارک جیسے پیشوا گزرے ہیں کہ انہوں نے اپنے علم کے ذریعے لوگوں کو بھر پور فائدہ پہنچایا ہے ۔(نصرالباری)
كما في سنن الترمذي:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ العَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَنَا؟ قَالَ: وَكَانَ سَلْمَانُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخِذَ سَلْمَانَ قَالَ: «هَذَا وَأَصْحَابُهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ الإِيمَانُ مَنُوطًا بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ فَارِسَ»
(وَمِنْ سُورَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،ص:384،ج:5،ط: مصر)
وفي عمدة القاري شرح صحيح البخاري:
قَوْله: (رجل أَو رجال) . شكّ من سُلَيْمَان بن بِلَال بِدَلِيل الرِّوَايَة الَّتِي أوردهَا بعْدهَا من غير شكّ مُقْتَصرا على قَوْله: (لَنَالَهُ رجال من هَؤُلَاءِ) ، وَكَذَا هُوَ عِنْد مُسلم وَالنَّسَائِيّ، قَوْله: (من هَؤُلَاءِ) أَي: الْفرس، بِقَرِينَة، سلمَان الْفَارِسِي. وَقَالَ: الْكرْمَانِي أَي: الْفرس يَعْنِي الْعَجم وَفِيه نظر لَا يخفى ثمَّ إِنَّهُم اخْتلفُوا فِي آخَرين مِنْهُم فَقيل: هم التابعون وَقيل: هم الْعَجم وَقيل أبناؤهم، وَقيل: كل من كَانَ بعد الصَّحَابَة. وَقَالَ أَبُو روق جَمِيع من أسلم إِلَى يَوْم الْقِيَامَة. وَقَالَ الْقُرْطُبِيّ: أحسن مَا قيل فيهم أَنهم أَبنَاء فَارس بِدَلِيل هَذَا الحَدِيث، لَنَالَهُ رجال من هَؤُلَاءِ، وَقد ظهر ذَلِك بالعيان فَإِنَّهُم ظهر فيهم الدّين وَكثر فيهم الْعلمَاء وَكَانَ وجودهم كَذَلِك دليلاا من أَدِلَّة صدقه صلى الله عَلَيْهِ وَسلم،
( باب وَآخَرين مِنْهُم لما يلحقو،ص:235،ج:19،ط: بيروت)
وفي مستخرج ابي عوانة:
عن أبي هريرة، أنه قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ نزلت (7) عليه سورة الجمعة، فلما قرأ: {وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ...} (8) قالوا: من هؤلاء يا رسول الله؟ فلم يراجعه النبي صلى الله عليه وسلم حتى سأله مرة أو مرتين [أو ثلاثًا] (9) قال: وفينا سلمان الفارسي، قال: فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده على سلمان ثم قال: "لو كان الإيمان عند الثريا لناله رجال من هؤلاء".وقال النفيلي: "من فارس"...... لما نزلت: {وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ...} (5) قالوا: يا رسول الله! من هؤلاء؟ وسلمان إلى جانبه قال: "هم الفرس هذا وقومه
(مناقب ابناء فارس،ص:275،ج:19،ط: الجَامِعَة الإسلاميَّة)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 28 Jul 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔