سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-55 Fatwa no: 1447-55

دوزخ کو صرف کفار کے لیے سمجھنا اور شفاعتِ نبوی ﷺ کی امید پرگناہوں پر جری ہونا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : 1۔قرآن کریم کے درس ، ترجمہ وغیرہ میں بیٹھ کر مؤمنین کی کامیابی ، نصرت الہی ، آخرت کی نعمتوں اور خوشیوں کو سن کر یہ خیال کرنا کہ دوزخ صرف کفار کیلئے ہے ؟ 2۔ اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت کی قبولیت کی امید سے گناہوں اور بداخلاقیوں کے ارتکاب پر جری ہونا ان کی یہ سوچ شریعت کی رو سے کیسی ہے ؟
جواب :

بصورت مسئولہ درس قرآن وترجمہ میں محض مؤمنین کی کامیابی اور آخرت کی نعمتوں کے بارے میں سن کر یہ خیال کرنا کہ دوزخ صرف کفار کیلئے ہے  یہ خیال درست نہیں ؛ کیونکہ احادیث مبارکہ سے فاسق مسلمان کا بھی دوزخ میں جانا ثابت ہے ، تاہم یہ عقیدہ  اور سوچ درست ہے کہ  دوزخ میں کفار ہمیشہ رہیں گے ۔مسلمان اپنی سزا بھگت کر آخر میں جنت میں ہی جائیں گے۔
2۔اسی طرح نبی کریم ﷺ کی شفاعت کی قبولیت کی امید پر گناہوں پر جری ہونا یہ  غلط خیال اور سوچ ہے اس سے اجتناب ضروری ہے ، ہو سکتا ہے کہ اس سوچ کی وجہ سے ایسے گناہ کا مرتکب ہوجائے جو آپ ﷺ کی شفاعت سے محرومی کا باعث بن جائے ؛کیونکہ  کامل نجات کیلئے ایمان کیساتھ اعمال صالحہ کا ہونا بھی ضروری ہے ۔
كما في تفسير السمعاني :
وَقَوله: {إِن وعد الله حق فَلَا تغرنكم الْحَيَاة الدُّنْيَا وَلَا يَغُرنكُمْ بِاللَّه الْغرُور} يَعْنِي: الشَّيْطَان، وتغريره للْإنْسَان هُوَ تزيينه للمعاصي وتمنيه الْمَغْفِرَة من الله، وَعبر عَنهُ بتزيينه لَهُ الْمعاصِي وتمنيه الْمَغْفِرَة. وَفِي الْخَبَر أَن النَّبِي قَالَ: " الْكيس من دَان نَفسه، وَعمل لما بعد الْمَوْت (أَي حاسب نَفسه) والفاجر من أتبع نَفسه هَواهَا، وَتمنى على الله (الْمَغْفِرَة) ".
(سورة السجدة،آيت 33،ج4،ص240،ط:دار الوطن،الرياض)
وفي سنن ابن ماجة:
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ، مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، ثُمَّ تَمَنَّى عَلَى اللَّهِ»
(باب زكر الموت والإستعداد،حديث 4260،ج2،ص1423،ط:دار إحياء الكتب العربية)
وفي مشكاة المصابيح:
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيَخْرُجُونَ قَدِ امْتَحَشُوا وَعَادُوا حُمَمًا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَمْ تَرَوْا أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً ". مُتَّفَقٌ عَلَيْه.
(باب الحوض والشفاعة،حديث 5598،ج2،ص789،ط:مكتبة البشري)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب