سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-551 Fatwa no: 1448-551

زمین دے کر تمام اخراجات کاشتکار سے کروانا اور نصف پیداوار لینا

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبا رے میں کہ ایک آدمی دوسرے کو زمین دیتا ہےایک کنال ،دو کنال،بہرحال لینے والا زمین میں سارا خرچہ کرتا ہے اس میں فصل اگاتا ہے ،فصل تیار ہونے کے بعد دونوں رضامندی سے مالک کو آدھی فصل دے دیتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟

جواب :

 زمین کی  بعض پیداوار کے عوض زمین کو اجارہ پر لینا جائز ہےاور اجارہ کے صحیح ہونے کے لیے عقد کے وقت اجرت کا طے کرنا لازمی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں    اگر زمین  کسی ایک کی تھی اور باقی تمام خرچہ ،عمل  وغیرہ  دوسرے کا تھا اور دونوں  نےعقد كے   وقت رضامندی سے  مالک زمین کے لیے پیداوار  میں سے آدھی فصل مقرر  کر لی  تو یہ  معاملہ کرنا جائز ہے ؛کیونکہ اس صورت میں    خرچہ کرنے والا (کاشتکار)زمین  کو کرایےپر لینے والا شمار ہوگا اور کرایے کے عوض   زمین کی آدھی پیداوار کا دینا درست ہے۔
كما في الفتاوي الهندية:
(الباب الثاني في بيان) (أنواع المزارعة) الأصل أن استئجار الأرض ببعض الخارج منها جائز…أما الثلاثة الأول: فأحدها أن تكون الأرض من أحدهما والبذر والبقر والعمل من الآخر وشرطا لصاحب الأرض شيئا معلوما من الخارج جاز لأن صاحب البذر يكون مستأجرا الأرض بشيء معلوم من الخارج.
(مزارعة،ص:238،ج:5،ط:دارالفكر)
وفي المبسوط:
ثُمَّ الْمُزَارَعَةُ عَلَى قَوْلِ مَنْ يُجِيزُهَا عَلَى أَرْبَعَةِ أَوْجُهٍ أَحَدُهَا: أَنْ تَكُونَ الْأَرْضُ مِنْ أَحَدِهِمَا وَالْبَذْرُ وَالْعَمَلُ وَالْبَقَرُ وَآلَاتُ الْعَمَلِ كُلِّهِ مِنْ الْآخَرِ، فَهَذَا جَائِزٌ؛ لِأَنَّ صَاحِبَ الْبَذْرِ مُسْتَأْجِرٌ لِلْأَرْضِ بِجُزْءٍ مَعْلُومٍ مِنْ الْخَارِجِ، وَلَوْ اسْتَأْجَرَهَا بِأُجْرَةٍ مَعْلُومَةٍ مِنْ الدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ صَحَّ، فَكَذَا إذَا أَسْتَأْجَرَهَا بِجُزْءٍ مُسَمًّى مِنْ الْخَارِجِ شَائِعٍ.
(مزارعة علي قول من يجيزها في النصف،ص:19،ج:23،ط: دار المعرفة)
 وفي الفقه الاسلامي:
شروط الخارج الناتج من الزرع:أن يكون الناتج معلوم القدر كالنصف والثلث والربع ونحوه؛ لأن ترك التقدير يؤدي إلى الجهالة المفضية إلى المنازعة.
(شروط الخارج الناتج من الزرع:ص:4688،ج:6،ط: دار الفكر)
وفي لسان الاحكام:
هَذَا الْمُزَارعَة على سَبْعَة أوجه أَحدهَا أَن تكون الأَرْض من أَحدهمَا وَالْبَقر وَالْعَمَل وَالْبذْر من الآخر وَهَذَا الْعَمَل جَائِز
(فصل في مسائل الماء:ص:405،ج:1،ط:البابي الحلبي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Jul 2026