سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-552 Fatwa no: 1448-552

آستین اوپر چڑھا کر نماز پڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے وضوء کیا اور اس کے فوراً بعد امام کے ساتھ نماز کے رکوع میں شامل ہو گیا،لیکن اس نےآستین نیچے نہیں کیے،کیا اس کی نماز ہوگئی یا واجب الاعادہ ہو گی؟

جواب :

آستین چڑھا کر نماز پڑھنا مکرو ہ  تنزیہی ہے،لہذا  اگر کسی نے آستین چڑھا کر نماز پڑھ لی تو اس کی نماز تو ہو جائے گی ،مگر مکروہ تنزیہی ہو گی ،دوبارہ پڑھنا واجب  نہ ہو گا،تاہم  اس شخص کو چاہیے کہ دوران نماز مختلف  ارکان میں ایک  ہاتھ کو استعمال کرتے ہوئے  آہستہ آہستہ کر کے آستین  نیچے کر لے؛تاکہ کراہت سے بچ جائے۔
الدرالمختار:
(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كم أو ذيل... (قوله كمشمر كم أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله، وأشار بذلك إلى أن الكراهة لا تختص بالكف وهو في الصلاة كما أفاده في شرح المنية، لكن قال في القنية: واختلف فيمن صلى وقد شمر كميه لعمل كان يعمله قبل الصلاة أو هيئته ذلك اهـ ومثله ما لو شمر للوضوء ثم عجل لإدراك الركعة مع الإمام. وإذا دخل في الصلاة كذلك وقلنا بالكراهة فهل الأفضل إرخاء كميه فيها بعمل قليل أو تركهما؟ لم أره: والأظهر الأول.
(ما يفسد وما يكره فيها،۶۴۰/۱،دارالفكر)
الهداية:
" ويكره للمصلي أن يكف بثوبه...(قوله ويكره) كانه اراد بالمكروه هنا مايكون غير مفسد الصلاة(وقوله يكف ثوبه) ويكره.. مشمر كميه
(مكروهات الصلاة،۲۱۸،۲۲۱/۱،بشری)
غنية المتملي:
ويكره ايضا(ان يكف ثوبه) وهو مشمرالكم اوالذيل
(كراهية الصلاة،۳۴۸/۱،رشيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Jul 2026