سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-553 Fatwa no: 1448-553

اسلامک بینک کا معیار

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک دوست پوچھتا ہے کہ اسلامک بینک کا معیار کیا ہے اور آیا اس معیار پر کوئی بینک پوراپورا اترتا ہے یا نہیں ؟
جواب :

بصورت مسئولہ اسلامی بینک کا بنیادی مقصد شریعت کے اصولوں کے مطابق عمل کرنا ہے، اس میں سود کا معاملہ نہیں  ہوتا ہے، برخلاف روایتی بینک   کہ وہ لوگوں  سے  مال لے  کر  اس پر سود دیتاہے  جو کہ اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے،
اسلامی بینک کا طریقہ کار:
 بینک  کا تعلق دو طرفہ ہوتا ہے : ایک طرف اس کا تعلق   ڈپازٹر کے   ساتھ ہوتا ہے اور دوسری  طرف اس کا تعلق ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے  جن کو بینک  سرمایہ فراہم  کرتا ہے ، دونوں معاملات میں اسلامی بینک شریعت کے اصولوں پر عمل کرتاہے تاکہ سوداور حرام  مال سے لوگوں كو بچايا جا سکے اور قرآن و سنت كے  مطابق خدمات فراہم کی جا سکیں 
بینک اور ڈپازٹر کے درمیان مختلف شرعی معاہدات ہوتے ہیں  جیسے: مضاربہ ، مشارکہ ، مرابحہ، اجارہ، سلم اور استصناع، ان  شرعی معائدوں کے ذریعے بینک  لوگوں کو حلال نفع دیتا ہے  ؛کیونکہ  اسلامی بینک صرف ان کاروباروں میں سرمایہ کاری کرتاہے جو شریعت کے مطابق  ہو اسی طرح بینک اور ان لوگوں کے درمیان  بھی جن کو بینک سرمایہ فراہم کرتا ہے   ایسے کاروبار(مشارکہ  وغیرہ )کا انتخاب کیا جاتا ہے جو کسی بھی صورت میں حرام(شراب، جوااور سودی کاروبار) نہ ہوں ،نیزاسلامی بینک  سود کے بجائے منافع اور نقصان کی شراکت  پر معاملات کرتا ہے  صرف منافع پر نہیں کرتا ہے
الغرض اسلامی بینک کا معیار شریعت کے اصولوں پر ہوتا ہے ،جواپنے صارفین کو سود سے پاک،اور شریعت کے مطابق مالی خدمات فراہم کرنے میں خدمات سر انجام دیتا ہے۔(اسلام اور جدید معیشت،1/179)(اسلامی بینکاری اور علماء،1/19)
نیز  کون سا  بینک  اس معیار پر پورا اترتا ہے  اب تک میزان بینک، اسلامی بینک اورخیبر  بینک کا معیار  ٹھیک رہا ہے ، باقی جہاں  دیگر  بینکوں نے اسلامک وینڈوز کھولے ہوئے ہیں اگر وہاں  شرعی  ایڈوائزر موجود ہوں اور وہ ان کی تصدیق کریں  کہ یہ  شریعت کے  مطابق کام کر رہے ہیں  تو ان کے ساتھ معاملات کر سکتے ہیں۔
كمافي القرآن المجيد:
وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا…يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا…. فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
(البقرة،آية:279،پاره:2)
وفي سنن الدار القطني:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:  «دِرْهَمٌ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زِنْيَةً».
(البيوع،ص:403،ج:3،ط: مؤسسة الرسالة)
وفي شرح معاني الآثار:
وَحُرِّمَ كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً
(باب استقراض الحيوان،ص:59،ج:4،ط: عالم الكتب)
وفي التبيين الحقائق:
وَالرِّبَا مُحَرَّمٌ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَإِجْمَاعِ الْأُمَّةِ أَمَّا الْكِتَابُ فَقَوْلُهُ تَعَالَى {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا}وَأَمَّا السُّنَّةُ فَمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوَكِّلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ»
( باب الربا،ص:85،ج:4،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفي الهداية:
الديون تقضى بأمثالها إذ قبض الدين نفسه لا يتصور، إلا أنه جعل استيفاء لعين حقه من وجه
(الوكالة،ص:149،ج:3،ط: دار احياء التراث العربي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Jul 2026