سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-554 Fatwa no: 1448-554

افعال عمرہ کے دوران خوشبو کے لگنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا کذن اپنی فیملی کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے گیا ہوا تھا دوران عمرہ میقات سے پندرہ منٹ کے سفر کے بعد اس کی اہلیہ نے اپنے پرس کو کھولا تو اس میں عطر کی شیشی تھی جو ساری بہہ گہی تھی ا ور بہنے کی وجہ سے وہ عطر ان کے کپڑوں پر بھی لگ گئی تھی آیا خوشبو کے لگنے کی وجہ دم لازم ہوگا یانہیںَ؟
جواب :

حالت احرام میں پہنے ہوئے کپڑوں پرخوشبو  لگنےکے حکم کادارومدار قلت اور کثرت پر ہوتا ہے اوراس (قلت و کثرت)کا اعتبار عرف یا مبتلا ہونے والے کی رائےکےمطابق  ہو گا،لہذاصورت مسئولہ میں اگر پہنے ہوئے کپڑوں پر خوشبو لگی ہے   اور   خوشبو    عرف یا  مذکورہ عورت کی رائے کے مطابق زیادہ ہے تو مذکورہ عورت پر دم لازم ہو گا اور اگرخوشبو   تھوڑی ہےتو اس عورت پر   صدقہ لازم ہوگا جس کا ادا کرنا حرم  میں ضروری ہے  ،اوراگر پہنے ہوئے کپڑوں کے علاوہ پر خوشبو لگی ہے تو  مذکورہ عورت کو چاہیے کہ حالت احرام میں ان کپڑوں کو استعمال نہ کرے۔
الفتاوی الهندية:
الباب الثامن في الجنايات  وفيه خمسة فصول  الفصل الأول فيما يجب بالتطيب والتدهن:فإذا استعمل الطيب فإن كان كثيرا فاحشا ففيه الدم وإن كان قليلا ففيه الصدقة كذا في المحيط وأما الثوب والفراش إذا التزق به طيب اعتبرت فيه القلة والكثرة على كل حال وكان الفارق هو العرف وإلا فما يقع عند المبتلى كذا في النهر الفائق ويستوي في وجوب الجزاء بالتطيب الذكر والنسيان والطوع والكره والرجل والمرأة.
(الباب الثامن فی الجنايات،۵۱۹/۱،رشيدية)
المحيط البرهاني:
نوع منه فى الدهن والطيب والخضاب: يجب أن يعلم بأن المحرم ممنوع عن استعمال الدهن والطيب، قال عليه السلام في صفة الحاج «الحاج الشعث التفل»، وقال عليه السلام «يأتون شعثاً غبراً من كل فج عميق» واستعمال الدهن والطيب لهذا، فإذا استعمل الطيب، فإن كان كثيراً فاحشاً، فعليه الدم، وإن كان قليلاً فعليه الصدقة.
(فيما يحرم علی المحرم بسبب،۷۴۳/۲، دار الفکر)
بدائع الصنائع:
أما الطيب فنقول لا يتطيب المحرم لقول النبي صلى الله عليه وسلم المحرم الأشعث الأغبر والطيب ينافي الشعث. 
(فصل وأما الذي يرجع إلى الطيب،۱۸۹/۲، دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Jul 2026