سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-556 Fatwa no: 1448-556

اگر تم آج گھر نہ آئی تو تمہیں تین طلاقيں ہیں کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے ایک شخص کی بیوی کی ڈیلیوری ہوئی اور آپریشن کے بعد وہ میکے چلی گئی تاکہ صحت یاب ہو سکے۔اگلے دن شوہر نے بیوی کو فون پر واضح الفاظ میں کہا:"اگر تم آج گھر نہ آئی تو تمہیں تین طلاقيں ہیں شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہی تھی اس نے الفاظ سوچ سمجھ کر اور شرط کے ساتھ استعمال کیے بیوی اُس وقت سسرال جانے کو تیار تھی، لیکن والدہ نے روک دیا کیونکہ طبیعت بہت کمزور تھی شوہر نے بعد میں اپنے الفاظ سے رجوع نہیں کیا، بلکہ کہتا ہے کہ طلاق ہو بھی گئی ہو تو اہل حدیث فتویٰ کے مطابق نہیں ہوئی اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا فقہِ حنفی کے مطابق، ان الفاظ سے تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں؟ 2:چونکہ شوہر کی نیت بھی طلاق دینے کی تھی اور شرط بھی پوری ہو گئی (یعنی بیوی دن کے اندر واپس نہیں گئی)، تو کیا نکاح ختم ہو گیا ہے؟ 3:اب کیا رجوع یا رجحان کی کوئی گنجائش ہے؟ 4:شوہر اہلِ حدیث سے فتویٰ لا کر کہتا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی ،جبکہ دونوں میاں بیوی حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں کیا ایسا فتویٰ ماننا درست ہے؟
جواب :

صورت مسئولہ میں   متعین وقت کے اندر بیوی کے گھر نہ  آنے  کی وجہ سے اس پر تین طلاقیں  واقع ہو چکی ہیں جس کے بعد  نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی  دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا  جائزہے، إلا يہ کہ عورت اس خاوند کی عدت گزارنے کے بعدکسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کر ے اس سے  ازدواجی تعلق قائم ہو جائے اور پهر وہ  اپنی مرضی طلاق دے یا فوت ہو جائے، تو  پھرعدت گزارنے كے بعد عورت  پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے
نیز تین طلاقیں  تین ہی ہوتی ہیں  یہ مسئلہ قرآن ،حدیث،صحابہ کرام اور  ائمہ اربعہ سے ثابت ہے تین طلاقیں واقع ہونے کے  بعد کسی اور  مسلک  سے  ایک طلاق واقع ہونے کا فتوی  لے کر اس سے بیوی  حلال نہ ہو گی اس لیے اس سے احتراز کریں ۔
کما في القرآن المجيد:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ..... فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ... الخ
(سورة البقرة،آية:229،230)
وفي احكام القرآن:
فَالْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَإِجْمَاعُ السَّلَفِ تُوجِبُ إيقَاعَ الثَّلَاثِ مَعًا وَإِنْ كَانَتْ مَعْصِيَةً
(البقرة،ص:85،ج:2،ط: دار إحياء التراث العربي)
وفي صحيح البخاري:
عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَكَرَ فِي القُرْآنِ مِنْ أَمْرِ المُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ 
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ» قَالَ: فَتَلاَعَنَا فِي المَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلاَعُنِ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلاَعِنَيْنِ
(التلاعن في المسجد،ص:54،ج:7،ط: بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 30 Jul 2026