نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ مذکورہ حدیث ( الأذنان من الرأس) کا ضابطہ صرف وضو ء میں ہے احرام میں نہیں ہے اس لیے مردکا احرام میں کان ڈھانپنے پر کوئی دم یا کفارہ لازم نہیں ہوتا اور چونکہ یہ چہرے میں بھی شامل نہیں ہے جس کا کھلا رکھنا احرام میں عورت پر لازم ہے،اس لیے اگر کوئی عورت احرام کی حالت میں اپنے سر کے ساتھ کانوں کو چھپا لے تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا ۔
سنن ابی داؤد:
عن أبي أُمامة ذكرَ وُضوءَ النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: كانَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يَمسَحُ المَأْقَين، قال: وقال: الأُذُنانِ مِن الرَّأسِ.
( باب صفة وضوء النبي ﷺ،۹۴/۱، دار الرسالة العالمية)
العناية:
وَحَدُّ الْوَجْهِ مِنْ قِصَاصِ الشَّعْرِ إلَى أَسْفَلِ الذَّقَنِ وَإِلَى شَحْمَتَيْ الْأُذُنِ؛ لِأَنَّ الْمُوَاجَهَةَ تَقَعُ بِهَذِهِ الْجُمْلَةِ وَهُوَ مُشْتَقٌّ مِنْهَا
(كتاب الطهارت،۲۸/۱، دار الفكر)
غنية الناسک:
فجاز تغطية اللحية ما دون الذقن واذنيه وقفاہ الخ،
( فصل محرمات الاحرام،۴۶/۱،دارالفکر)
در المختار:
ولا بأس بتغطية أذنيه وقفاه (قوله ولا بأس بتغطية أذنيه وقفاه) وكذا بقية البدن إلا الكفين والقدمين للمنع من لبس القفازين والجوربين، ومر تمامه في فصل الإحرام
(باب الجنايات في الحج،۵۴۹/۲،دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 30 Jul 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔