نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ امام صاحب کا مذکورہ عمل (نماز کا کچھ حصہ اکیلے سراً پڑھنے کے بعد بقیہ نماز مقتدی کے شریک ہونے سے جہراً پڑھانا ) شرعاً درست ہے اس سے نماز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔
كما في الدرالمختارمع رد المحتار:
(وَيَجْهَرُ الْإِمَامُ) وُجُوبًا بِحَسَبِ الْجَمَاعَةِ، فَإِنْ زَادَ عَلَيْهِ أَسَاءَ، وَلَوْ ائْتَمَّ بِهِ بَعْدَ الْفَاتِحَةِ أَوْ بَعْضِهَا سِرًّا أَعَادَهَا جَهْرًا بَحْرٌ، لَكِنْ فِي آخِرِ شَرْحِ الْمُنْيَةِ ائْتَمَّ بِهِ بَعْدَ الْفَاتِحَةِ، يَجْهَرُ بِالسُّورَةِ إنْ قَصَدَ الْإِمَامَةَ وَإِلَّا فَلَا يَلْزَمُهُ الْجَهْرُ(قَوْلُهُ إنْ قَصَدَ الْإِمَامَةَ إلَخْ) وَوَجْهُهُ أَنَّ الْإِمَامَ مُنْفَرِدٌفِي حَقِّ نَفْسِهِ، وَلِذَا لَا يَحْنَثُ فِي لَا يَؤُمُّ أَحَدًا مَا لَمْ يَنْوِ الْإِمَامَةَ، وَلَا يَحْصُلُ ثَوَابُ الْجَمَاعَةِ إلَّا بِالنِّيَّةِ،
(فصل في القراءة،ص:532،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي درر الاحكام:
أَنَّ مَنْ شَرَعَ فِي صَلَاةٍ يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَقْتَدِي بِهِ وَاخْتَارَ الْمُخَافَتَةَ وَقَرَأَ الْفَاتِحَةَ ثُمَّ دَخَلَ فِي صَلَاةِ جَمَاعَةٍ يَجْهَرُ بِالسُّورَةِ إنْ قَصَدَ الْإِمَامَةَ
(فصل في الامامة،ص:82،ج:1،ط: دار إحياء الكتب العربية)
وفي حاشية الطحطاوي:
ويجب جهر الإمام" الواجب منه أدناه وهو أن يسمع غيره ولو واحدا وإلا كان إسرارا
(واجب الصلاة،ص:252،ج:1،ط: دار الكتب العلمية بيروت)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 30 Jul 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔