سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-558 Fatwa no: 1448-558

تنہا نماز شروع کرنے کے بعد مقتدی کی شمولیت پر جہری قراءت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک چھوٹاسا محلہ ہے اس میں ایک مسجد ہے مسجد کے امام صاحب کبھی مقتدیوں کے نہ آنے کی صورت میں اکیلے نماز پڑھ لیتے ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اکیلے نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ان کا ایک جاننے والا ان کے پیچھے آ کر نماز میں شریک ہو جاتا ہے تو امام صاحب وہیں سے جہرا ً نما ز پڑھانا شروع کر دیتے ہیں چاہے وہ دوسری رکعت میں ہوں یا رکوع یا سجدہ میں ہو تو آیا اس طرح کرنا کیسا ہے ؟
جواب :

بصورت مسئولہ    امام  صاحب کا مذکورہ  عمل (نماز کا کچھ حصہ اکیلے سراً پڑھنے کے بعد  بقیہ نماز  مقتدی کے شریک ہونے سے جہراً پڑھانا  ) شرعاً  درست ہے  اس سے نماز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔
كما في الدرالمختارمع رد المحتار:
(وَيَجْهَرُ الْإِمَامُ) وُجُوبًا بِحَسَبِ الْجَمَاعَةِ، فَإِنْ زَادَ عَلَيْهِ أَسَاءَ، وَلَوْ ائْتَمَّ بِهِ بَعْدَ الْفَاتِحَةِ أَوْ بَعْضِهَا سِرًّا أَعَادَهَا جَهْرًا بَحْرٌ، لَكِنْ فِي آخِرِ شَرْحِ الْمُنْيَةِ ائْتَمَّ بِهِ بَعْدَ الْفَاتِحَةِ، يَجْهَرُ بِالسُّورَةِ إنْ قَصَدَ الْإِمَامَةَ وَإِلَّا فَلَا يَلْزَمُهُ الْجَهْرُ(قَوْلُهُ إنْ قَصَدَ الْإِمَامَةَ إلَخْ) وَوَجْهُهُ أَنَّ الْإِمَامَ مُنْفَرِدٌفِي حَقِّ نَفْسِهِ، وَلِذَا لَا يَحْنَثُ فِي لَا يَؤُمُّ أَحَدًا مَا لَمْ يَنْوِ الْإِمَامَةَ، وَلَا يَحْصُلُ ثَوَابُ الْجَمَاعَةِ إلَّا بِالنِّيَّةِ،
(فصل في القراءة،ص:532،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي درر الاحكام:
أَنَّ مَنْ شَرَعَ فِي صَلَاةٍ يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَقْتَدِي بِهِ وَاخْتَارَ الْمُخَافَتَةَ وَقَرَأَ الْفَاتِحَةَ ثُمَّ دَخَلَ فِي صَلَاةِ جَمَاعَةٍ يَجْهَرُ بِالسُّورَةِ إنْ قَصَدَ الْإِمَامَةَ
(فصل في الامامة،ص:82،ج:1،ط: دار إحياء الكتب العربية)
وفي حاشية الطحطاوي:
ويجب جهر الإمام" الواجب منه أدناه وهو أن يسمع غيره ولو واحدا وإلا كان إسرارا
(واجب الصلاة،ص:252،ج:1،ط: دار الكتب العلمية بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 30 Jul 2026