نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک شخص کا ایک بیٹا ایبٹ آباد میں اور ایک بیٹا اسلام آباد میں رہتا ہے ،وہ کچھ دنوں کے لئے ایبٹ آباد اور کچھ دنوں کے لئے اسلام آباد میں ہوتا ہے ،اب یہ شخص پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا ؟ رہنمائی فرمائیں ۔
تنقیح1:شخص مذکور نے بہت عرصہ سے اپنے وطن اصلی کو چھوڑا ہے ۔
تنقیح2:یہ گھر بیٹوں کی اپنی ہی ملکیت ہے ۔
تنقیح3:شخص مذکور کا دونوں گھروں میں سے کسی بھی گھر میں مستقل رہائش اختیار کرنے کا ارادہ نہیں ہے ۔
تنقیح4:شخص مذکور نے بعض دفع دونوں گھروں میں سے ہر گھر میں 15 دن سے زیادہ بلکہ دو مہینوں تک رہائش اختیار کی ہے ۔
تنقیح5:شخص مذکور کا سامان مستقل طور پر کسی ایک گھر میں نہیں ہے ،بلکہ جہاں جاتا ہے وہاں اپنے ساتھ سامان لے جاتا ہے ۔
بصورت مسئولہ شخص مذکور جب بھی کسی بیٹے کے پاس جائے گا ،تو اگر مذکورہ علاقہ میں پندرہ دن سے کم اقامت اختیار کرنے کی نیت ہو تو قصر کرے گا اور اگر پندرہ دن یا اس سے زیادہ کی نیت ہو تو پھر پوری نماز پڑھے گا۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(قَوْلُهُ أَوْ تَوَطُّنِهِ) أَيْ عَزَمَ عَلَى الْقَرَارِ فِيهِ وَعَدَمِ الِارْتِحَالِ وَإِنْ لَمْ يَتَأَهَّلْ، فَلَوْ كَانَ لَهُ أَبَوَانِ بِبَلَدٍ غَيْرِ مَوْلِدِهِ وَهُوَ بَالِغٌ وَلَمْ يَتَأَهَّلْ بِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ وَطَنًا لَهُ إلَّا إذَا عَزَمَ عَلَى الْقَرَارِ فِيهِ وَتَرَكَ الْوَطَنَ الَّذِي كَانَ لَهُ قَبْلَهُ شَرْحُ الْمُنْيَةِ.
(مطلب:في وطن الأصلي،ج2،ص739،ط:رحمانية)
وفى الهندية:
أما إذا كانت أرزاقهم من أموال أنفسهم فالعبرة لنيتهم، كذا في الظهيرية.
(كتاب الصلاة،ج1،ص141،ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع:
(وَوَطَنُ) الْإِقَامَةِ يُنْتَقَضُ بِالْوَطَنِ الْأَصْلِيِّ؛ لِأَنَّهُ فَوْقَهُ، وَبِوَطَنِ الْإِقَامَةِ أَيْضًا؛ لِأَنَّهُ مِثْلُهُ، وَالشَّيْءُ يَجُوزُ أَنْ يُنْسَخَ بِمِثْلِهِ، وَيُنْتَقَضُ بِالسَّفَرِ أَيْضًا؛ لِأَنَّ تَوَطُّنَهُ فِي هَذَا الْمَقَامِ لَيْسَ لِلْقَرَارِ وَلَكِنْ لِحَاجَةٍ، فَإِذَا سَافَرَ مِنْهُ يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى قَضَاءِ حَاجَتِهِ فَصَارَ مُعْرِضًا عَنْ التَّوَطُّنِ بِهِ، فَصَارَ نَاقِضًا لَهُ دَلَالَةً، وَلَا يُنْتَقَضُ وَطَنُ الْإِقَامَةِ بِوَطَنِ السُّكْنَى؛ لِأَنَّهُ دُونَهُ فَلَا يَنْسَخُهُ.
(باب المسافر،ج1،ص104،ط:دارالكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔