سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-560 Fatwa no: 1448-560

داڑھی منڈانے والے حافظِ قرآن اور صاحبِ شرعی داڑھی شخص میں امامت کا استحقاق

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ان مسائل کے بارے میں کہ اگر امام صاحب موجود نہ ہوں تو کس شخص کو امامت کرنی چاہیےیا کہیں امام مقررنہ ہو ،اگر وہاں ایک حافظ قرآن موجودہوجوداڑھی تراشتا ہو اورا یک معمر شخص پوری داڑھی والا ہوتوان میں سے کس کو امامت کرنی چاہیے اور اگر حافظ قرآن خود ہی امام كی جگہ پر کھڑا ہو جائے یا کو ئی شخص حافظ صاحب حافظ صاحب کہہ کر آگے کر دے ،مگر داڑھی پوری نہ ہو تو اس میں کیا کرنا ہو گا ؟
جواب :

بصورت  مسئولہ  اگر مسجد میں  نماز  کے وقت امام موجود نہ ہو یا  کہیں پر امام مقرر نہ ہو تو  مقتدیوں میں  سےجو قرات اور  علم کے اعتبار سے  اعلی ہو گاوہ امامت کا زیادہ  حقدار  ہو گا۔
نیز اگر  مقتدیوں میں ایک حافظ قرآن ہے اور وہ داڑھی تراشتاہے  اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص موجود ہے جس کی داڑھی پوری ہو اگر چہ حافظ نہ ہو تو  اس کو امام بنایا جا ئے ؛اس لیے  کہ  حافظ قرآن داڑھی  تراشنے کی وجہ سے  فاسق  کے حکم میں ہے اور فاسق کے  پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے ،البتہ اگر  اس  نے نماز پڑھا دی(چاہے خود امام بنا ہو یا کسی اور نے اس کو آگے کیا ہو) تو   نماز ادا ہو جائے گی ۔
كمافي الدرالمختار مع رد المحتار:
وَالسُّنَّةُ فِيهَا الْقَبْضَةُ.... يَحْرُمُ عَلَى الرَّجُلِ قَطْعُ لِحْيَتِهِ
(فصل في البيع،ص:407،ج:6،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
(وَالْأَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ) تَقْدِيمًا (الْأَعْلَمُ بِأَحْكَامِ الصَّلَاةِ) فَقَطْ (ثُمَّ الْأَحْسَنُ تِلَاوَةً) ثُمَّ الْأَوْرَعُ) (ثُمَّ الْأَسَنُّ) (ثُمَّ الْأَحْسَنُ خُلُقًا) (ثُمَّ الْأَحْسَنُ وَجْهًا) (ثُمَّ الْأَشْرَفُ نَسَبًا) (ثُمَّ الْأَنْظَفُ ثَوْبًا)
(الامامة،ص:557،ج:1،ط:دار الفكر)
وفيه ايضا:
(وَلَوْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، إنْ) الْكَرَاهَةُ (لِفَسَادٍ فِيهِ أَوْ لِأَنَّهُمْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ مِنْهُ كُرِهَ) لَهُ ذَلِكَ تَحْرِيمًا لِحَدِيثِ أَبِي دَاوُد «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ» (وَإِنْ هُوَ أَحَقَّ لَا) وَالْكَرَاهَةُ عَلَيْهِمْ.....وَكَذَا تُكْرَهُ خَلْفَ أَمْرَدَ وَسَفِيهٍ وَمَفْلُوجٍ وَكَذَا تُكْرَهُ خَلْفَ أَمْرَدَ وَسَفِيهٍ وَمَفْلُوجٍ ....(قَوْلُهُ وَكَذَا تُكْرَهُ خَلْفَ أَمْرَدَ) الظَّاهِرُ أَنَّهَا تَنْزِيهِيَّةٌ أَيْضًا
(الامامة،ص:559،562،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 30 Jul 2026